درثمین فارسی کے محاسن — Page 111
این منتقد تم نہ جائے شکوک است و التباس به سید جدا کند ، زِ مسیحائے احمرم از کلیه مناره شرقی، عجب مدار : چون خود ز مشرق است تجلی نیترم راینک منم که حسب بشارات آمدم به عینه کجاست، تا بند پا به منبرم آن را که حق به جنت خدش مقام داد به چولی بر خلاف و عده برون آرد، از ایردم چون کافر، از رستم ، پرستند مسیح را به غیوری هندا ، بهترش کرد، همسرم کرو ایک نظر بجانب فرقان ، زغور کن تا بر تو منکشف شود، این را از مهم تم يا رب، کجاست محرم را نه مکاشفات : تا نور باطنش، خبر آرد ز میخرم آن قبله رو نمود بیگیتی، بیچاره دهم : بعد از هزار و شه کریت انگلند در تقوم جوشید آنچنان گریم منبع فیوض : کامد، ندائے یار، زہر کوئے و محرم کے معترض ، بخوف الہی صبور باش : تا خود خدا، عیاں گند، آن نور اخترم آخر نخوانده ، که گمان بیجو کنید : چوک سے روی بروی از حدودش برادر رهم ۱۴۰۰ دیکھو انجیل متی: شه : انت قُلْتَ لِلنَّاسِ۔۔(المائدة : سه : به صد سے ترمیمہ میسر آنے میں شک شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔آقا خود مجھے سرخ رنگ والے مسیح سے بیدا بتا رہا ہے مشرقی مینا والی بات سے بھی تعجب کرو کیونکہ میرے سورج کا طلوع بھی مشرق سے ہی ہوا ہے۔یہ میں ہی ہوں جو بشارتوں کے مطابق آیا ہوں عیسی کہاں جو میرے منبر پر قدم دھر سکے ؟ وہ جسے خدا نے جنت الخلد مں جگہ دیدی وہ اپنے وعدہ کے خلاف اسے اس جنت سے کیسے باہر کالے گا۔چونکہ کا فلم کی راہ سے یے کی پرستش کر رہے ہیں خدا کی غیوری نےان کے علی لاری مجھے اسکا ہم بنادیا۔باقرآن پر ویسے ایک نظر ڈال تا میر پوشیدہ راز تجھ پرکھل جائے ہے میرے رب مکاشفات کا راز جانے والا کہاں ہے ا سکا بانی نور سے متعلق پیش گوئی کرنیوان انحضرت دریافت کر کے بتائے کو چودھویں صدی میں دنیا کو اپنا چہرہ دکھایا ابی عود ہسی نے حرم سے بہت نکالے جانے کے یہ دو سو سال بعد اس فیونی کے ریشم کی مہربانی اس قدر جوش میں آئی کہ میرے گلی کوچہ سے اس محبوب کی آواز آنے لگی ہے معترض خدا کے خوف سے ذرا صبر کرتا لله معانی و میر ستاسے کی روشنی ظاہر کرے، کیا آخر تو نے یہ نہی پڑھا نیک نیتی سے کام ایک روپ یا بھائی یا کیک و کوکیوں توڑتا ہے