درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 102 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 102

-F یکی شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست به ہر کسے در کار خود، با دین احمد کار نیست ہر طرف سیل ضلالت صد هزاران تن ربود : حیف بر چشمے کر کنوں نیز ہم بہشیار نیست اے خداوندان نعمت! این چنین خصلت پراست به بیخود از خوابیده یا خود بخت دیں بیدار نیست اسے مسلمانانی خدارا یک نظر بر حال دیں! : آنچہ نے بینم بلایا ، حاجیت اظہار نیست آتش افتاد است در نقش بخیزید کے کیلای : دیدنش از دور، کار مردم دیندار نیست هر زمان از بهر دین، در خون دل من سے تیکر : محرم این درد ما، جز عالم اسرار نیست دور مین ) بشنوید اے طالبان از غیب کند این ندا به مصلح باید که در هر جامقامی نداده انده دور ثمین ص۱۸۹) کامل لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے ضرور اس که در دین چنین امام آید : پوخلق جابل و بے دین و مردہ سا بات ہے در ثمین ص۲۶۲) رورم ترجمہ: اے این ایس سیکس ہوچکا ہے کہ اسکا کوئی ساتیار ادا نہیں یہ شہر کو اپنے کام سے کام ہے اورا نام کی نذر پڑا نہیں۔ہرطرف سے گمراہی کا سیلاب کو افراد کواپنے ساتھ بہا لے گیا۔اس آنکھ پر افوس سے جواب بھی نہیں بھی اسے دولتمند و اس قدر غفلت کیوں ہے تم ہی نیند کے مانتے ہو یا دین کا نصیبہ ہی سویا ہوا ہے۔اسے مسلمانو ! خدا کیلئے دین کی حالت پر ایک نظر ڈالو جو بلائیں میں دکھ رہا ہوں اس سے اظہار کی ضروت نہیں دی کے خرمن میں آگ لگ چکی ہے۔اجوائن ہو اٹھو اور کھڑے ہو کر تماشا دیکھنا دیندار لوگو کا کام نہیں دینکی خاطر میرادل سرقت خون میں تڑپتا رہتا ہے۔میرے اس دور کا محرم اس دا کے سواکوئی نہیں جواں کے سر سے واقف ہے۔سے تر جمہ : اسے حق کے طالبو اسنواب تو غیب سے یہ آواز آرہی ہے کہ ہر جگہ فتنہ و فساد برپا ہے لہذا ضرور کوئی اصلاح کر نیوالا بھی ہونا چاہیئے۔ترجمه ضرور کر دی میں ایسا نام آیا کرے جب خلقت جاہل ہے دین اور مردوں کی طرح ہو جائے۔یہاں ضرور کے معنی حاجت نہیں بلکہ اس کی دوستی معنی لازمی اور کایدی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔امیر خسرو کہتے ہیں اسے غلام اویم و هرکس که بیند آن صورت ضرورت است که همچو منش غلام شود ایسے شخص اگر وہ ہوں جوکوئی بھی کی موت دیکھے وہ ان امیری لی اس کا گریڈ ہوجائیگا دیکھے یہاں وقت کے معنی اتنا نہیں ہوسکتے بلکہ ضروری اور لازمی ہیں۔