درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 101 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 101

|+| آنکه در زندان نایا کی ست محبوش امیر : بست در شان امیر پاکبازان نکته چین تیر بر معصوم سے بارد جیتے بد گهر به آسمان را می سزد گرسنگ بارد بر زمین پیش چشمان شما، اسلام در خاک اوفتاد : چیست مزے ، پیش حق سے مجمع المتقین ہرطرف کفرست جوشاں اچھا افواج یزید به دین حق بیمار و بکس ہمچو زین العابدین مردم ذی مقدرت مشغول عشرت ہائے خویش خترم و خندان نشسته، بابتان نازنین عالمان را ز و شب با هم فساد از جوش نفس : زاهدان نمافل سراسر، از ضرورت رائے دین ر کس از به نفس دون خود طرفی گرفت به طرف دی خالی شد و بر شمن جت از کیکی اے مسلماں چہ آثار سلمانی میں است؟ وی چنین ابتر شما در جیفیه دنیا رمیان ؟ (در تمین ۱۵۳-۱۵۵) ترجمہ جو خو ناپاکی کے دائرہیں قیداور مجوس ہے، وہ بھی پاکیازوں کے عام کی شان میں نکتہ چینی کرتا ہے۔ہائے افسوس خبیث اور بدفطرت لوگ بھی اس معصوم پر تیر برسا رہے ہیں، آسمان کیلئے رو ہوگا کہ زین پر پتھر برائے۔تمہاری آنکھوں کے سامنے اسلام خاک میں مل چکا ہے ، اسے دولت مندوں کی جماعت خدا کے حضور کیا عذر پیش کرو گے۔یزید کی فوجوں کی طرح کفر ہر طرف اینٹھ رہا ہے اور دین حق امام زین العابدین کی طرح بیمار و بے یارو مدار پر ہے انا استلا لوگ اپنی میشی میتر میں مشغول ہیں اور نازنینوں کے ساتھ بیٹھے زنگ کیہاں منا رہے ہیں میں نفسانی جوش کی وجہ سے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔اور زاہد دین کی ضرورتوں سے بالکل غافل ہیں۔ہر شخص نے اپنے ذلیل نفس کی خاطر کسی نہ کسی طرفت رخ کیا ہوا ہے۔اور دین کی طرف کوئی متوجہ نہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر دشمن اپنی کمین گاہ سے نکل کر اس پر حملہ آور ہو رہا ہے۔اسے مسلمانو ! کیا مسلمانی کی یہی علامت ہے کہ دین یوں تباہ حال ہو اور تم مردار دنیا کے ساتھ چھٹے رہو ؟