درثمین فارسی کے محاسن — Page 100
حضرت مسیح موعود کی بعثت کے وقت مسلمانوں کی زبوں حالی مخیر صادق حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے واشگاف الفاظ میں یہ خبر دی تھی کہ مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ ہدایت کا سورج دھندلا جائے گا، انت مختلف فرقوں میں منقسم ہو جائے گی اور اسلام کے نام لیوا طرح طرح کے فسق و فجور میں مبتلا ہو جائیں گے۔اس وقت للہ تعالی کی طرفسے ایک سیخ ظاہر ہو گا، جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام اپنے ہاتھ میں لے گا۔اور اسے پایہ کمیل تک پہنچائے گا۔چنانچہ حضرت صلی الہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور اس وقت ہوا، جب مسلمانوں کی زبوں حالی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔آپ ان کی حالت زار دیکھ کر بیتیاب ہو گئے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے جو کچھ بھی بن آیا آپ نے کیا۔اس وقت مسلمانوں کی بے سروسامانی کا کیا عالم تھا۔اس کا کسی قدر اندازہ حضرت اقدس کے ان اشعار سے ہو سکتا ہے جو وقتاً فوقتاً آپ کے دردمند دل سے نکلے اور نوک قلم نے صفحہ قرطاس پر ثبت کر دیئے۔دو ایک اقتباسات ذیل میں ملاحظہ فرمائیے : مے سرد اگر خوی بارد ، دیدہ ہر اہل دیں ؟ ہر پریشاں حائلی اسلام و قحط المسلمین دین حق را گردش آمده صعبناک روہنگیں : سخت شوئے اوفتاد اندر جان از گرویس آنکه نفس اوست از سر خیرو خوبی بے نصیب : مے ترا شد عیب ها، در ذات خیرالمرسلین ترجمہ اسلام کی پریشان حال مسلمانوں کے مال پراگر بر دنیا کی انکو خون کے نو بہائے تو اسی لئے وا ہے۔دین حق کو ایک مشکل اور خوفناک مصیبت نے گھیر رکھا ہے اور دنیا می کفر اور دشمنی کی وجہ سے سخت شور برپا ہے ستم یہ ہے کہ وہ شخص جن کا نفس ہرقسم کی خیرو خوبی سے محروم ہے، وہ بھی خیر الرسل کی ذات ستودہ صفات پر بہتان باندھ رہا ہے ؟