درثمین فارسی کے محاسن — Page 99
۹۹ قدر این ره بپرس اند اموات ہے اے بسا گو رہا پر از حسرات جائے آن است کز چنیں جائے : از توزیع بروں نہیں پائے هر چه اندازوت زیار جدا : باش زمان جمله کارو بار جب را دور نمین ) عیش دنیا ئے دوں دے چندست : آخرش کار با خدا وندست اس قسم کا پہلا بیشتر حصہ اسی مضمون پر مشتمل ہے۔MA-AY در ثمین منته) سلہ ترجمہ : اس (اللہ تعالیٰ کے راستہ کی قدر مردوں سے پوچھو۔کتنی ہی قبریں ہیں جو سرتوں سے بھری ہوئی ہیں۔یہ مقام ایسا خطرناک ہے کہ (مناسب یہی ہے کہ اس مقام سے پر ہیزگاری کے ساتھ گذر جائے جو کا ردوبارہ تجھے محبوب سے جدا کرتا ہے ، تو اس کاروبار سے خود ہی جدا ہو جا نہ کے ترجمہ : اس ذلیل دنیا کا عیش چند روزہ ہے ، بالا خرحت اتعالیٰ سے ہی کام پڑتا ہے ؟