درثمین فارسی کے محاسن — Page 93
۹۳ ولی نیار امد بجز گفتار یا را به گرچه پیش دیده ها باشد نگار پس چو خود و لبر بود اندر حجاب بن کے توان کردن صبوری از مخطاب؟ لیک آن داند که او دلداده است به دو طریق عاشقی افتاده است ور ثمین ماه تا ۵۳) دار کوئے درد دل، نہ فطنت ماست : اگر بدار الشفائے وحی خداست نشود من زر ، تصویر ذکر : در همان ست، کوفته به نظر بست بر عقل منت الام : که از و تخت ، ہر تصور نام آن گمان برد و این نمود فراز آن نهان گفت و این کشود آن راز آل فرو ریخت، این بلف بسپرو به آن طمع داد و این بجا آورد ان کو شکست، هربت دلِ ما : ہست وحی خدائے بے ہمتا آن که مارا اگرخ نگار نمود : ہست الہام آن خدائے ودور ا ترجمہ : مجبور ہے گفتگو کرنے کے بغیر دل قرار نہیں پکڑتا۔اگرچہ محبوب آنکھوں کے سامنے ہی ہو۔بیس جب محبوب خود پردے میں ہو تو پھر کام کے بغیر یہ کس طرح اسکتا ہے لیکن ان باتوں کو وہی جانتا ہے، جو دل ہار چکا ہو اور اشتی کی رو پرلگ گیا ہو۔کے ترجمہ : درد دل کی دو اسماری عقل نہیں ہے وہ تو وحی الہی کے شفا خانہ میں ہے۔سونے کا تصور سونا نہیں بن جاتا۔سونا وہی ہے، جو نظر میں بچ جائے عقل پر الہام کا یہ احسان ہے کہ اس کی وجہ سے ہر نا قصی تصور پختہ ہو گیا۔اس نے تو محض خیال ظاہر کیا تھا۔اور اس نے سامنے دیکھا دیا۔اس نے پوشیدہ بات کی تھی۔اس نے وہ بھید ہی کھول دیا۔اس نے نیچے گرا دیا اور اس نے ہتھیلی پر رکھ دیا۔اس نے صرف امید دلائی تھی اس نے پوری کر دی۔وہ چیز جس نے ہمارے دل کے ہر ثبت کو توڑ دیا ہے، وہ خدائے لاثانی کی وحی ہے۔وہ جس نے نہیں معشوق کا چہرہ دیکھایا وہ اس بہت ہی پیار کرنے والے خدا کا الہام ہے۔