درثمین فارسی کے محاسن — Page 82
AY به دل که باشد گرفته اوہام : یا بد از وے سکینت و آرام ہمچو مینے ، کہ ہست فولادی که : در در دل آید، فزایدت شادی نرو که بد، عادت فساد و شقاق : چاره زهر نفس ، چوں تریاق کا رہا میگند ، بانسانی : ہمچو بادِ صبا، به بستانی می گشاید دو چشم انسان را می نماید جمال رحمان را دید وحی خدا ، چو گردد باز به بسته گردد ، بر آدمی دیر آنه یک کشش، کار می کنند بارون به در دل ایک فرد ، رُخ بیچوں در ثمین (۳۳۵، ۳۲۰) م ہست مشرقان آفتاب علم ودیں : تا برندت از گماں سوئے یقیں هست مشرقان از خدا حبل المتین : تاکشندت سُوئے رب العالمين بست مشرقای روزنه روشن اند خدا تا د بندت روشنی دیده ها ے ترجمہ : وہ دل جو وہموں میں گرفتار ہو، وہ اس سے تسکین اور آرام پاتا ہے۔ایک فولادی میخ کی طرح دل میں گڑھاتا ہے۔اور دل میں اتر کر خوش دلی اور سرور کی اینزادی کا باعث بنتا ہے۔اس کی برکت سے فساد اور جھگڑے کی عادت دور ہو جاتی ہے اور تریاق کی طرح نفس کے زہر کا علاج ہے، وہ انسان پر وہی کام دائر پیدا کرتا ہے جو باد صبا باغ پر کرتی ہے۔انسان کی دونوں آنکھوں کو کھول دیتا ہے۔اور خدائے رحمان کا جلوہ دکھاتا ہے۔جب خدا کی وحی کا دروازہ کھلتا ہے تو انسان پر ترس کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ایک ہی کششی انسان کے اندرونہ میں ایسا اثر ڈالتی ہے کہ اس بے مثال محبوب (خدا) کا چہرہ دل میں اتر جاتا ہے۔نه ترجمه : هسته آن مجید علم اور دین کا سورج ہے، تا تجھے شک سے چھڑا کر یقین کی طرف سے جائے۔قرآن مجید خدا کی طرف سے ایک مضبوط رہتی ہے تا تجھے رب العالمین خدا کی طرف کھینچ کر لے جائے۔قرآن مجید خدا کی طرف سے ایک روشن دن کی مانند ہے تا تجھے (روحانی) آنکھوں کی روشنی عطا کر سے ؟