درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 83 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 83

AF حق فرستاد ایں کلام بے مثال به تاریسی در حضرت قدس و جلال داروئ شک است، البام خدا به كان نماید ، قدرت تاہم حندا ہر کہ روئے خود زفرقان در کشید بے جان او روئے یقین ہر گز ندید جان خود را می کنی در خودروی باز مے مانی ، ہماں گول وغومی کاش جانت میں عرفان داشت : کاش سعیت ، تخم حق را کاشته د در ثمین ما، ۳۸) غرض کہاں تک اقتباسات پیش کئے جائیں۔حضرت اقدس کو اس مقدس کتاب اور خُدا اور رسول سے ایسی الفت ہے کہ بار بار انہیں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان کا نام لینے سے جو نصرت ملتی ہے اس کے آگے باقی سب لذتیں پہنچے ہیں۔آپ کو سکھ ملتا ہے تو ان کی یاد سے تسلی ہوتی ہے تو ان کا نام لینے سے سکون آتا ہے تو ان کی طرف دھیان جانے سے۔راحت پہنچتی ہے تو ان کا ذکر کرنے سے۔پھر ذکر ایسے بچھے تلے الفاظ میں کرتے ہیں کہ کوئی فالتو لفظ زبان سے نہیں نکلتا۔کلام میں کہیں جھول نہیں ، بلا ضرورت طول نہیں۔عبارت ایسی جیسے موتیوں کی لڑیاں۔اور اپنے محمد وحین کی جو صفات اور خوبیاں بیان کرتے ہیں وہ ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں۔سچ ہے آپ کو فرضی اور بناوٹی خوبیاں زبان اے ترجمہ : خدا نے اس بے نظیر کلام کو اس لئے بھیجا ہے تا تو پاکیزگی اور عظمت والی بارگاہ میں پہنچ جائے۔خدا کا کلام شبہات کا ایسا علاج ہے جو خدا کی کامل قدرت کو دیکھا تا ہے جس کسی نے قرآن سے روگردانی کی اس کا دل یقین کا منہ ہرگز نہیں دیکھ سکے گا۔تواپنی روش پر اصرار کر کے اپنی جان کو بلاک کر رہا ہے۔مگر پھر بھی ویسے کا ویسا احمق اور نادان رہ جاتا ہے۔کاش تیرے دل کو عرفان اپنی کا شوق ہوتا۔کاش تیری تمام جد و جہد سچائی کا بیج بونے میں لگی ہوتی :