درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 81 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 81

Al میل بدی نباشد الا رگے شیطاں : آی را بستر بدانم کز پر شرے رہیدہ اسے کان دھر بائی ، دانم که از کجائی تو نور آن خدائی ، کیس خلق آفریده مسلم نماند باکس، محبوب من توٹی بس ؟ زیرا که زمان فضای رس نورت بهم رسیده دورتمین ۴۷۴۵) هست فرقان مبارک از خدا طیب شجر : نو نہال و نیک بود تا سایه دارو، پر زیر میوه گر خواهی، بیانیه درخت میوه دارد به گر خردمندی بجنبان بید را بر شمر در نیاید باورت در وصف فرقان مجید به حسین آن شاید بپرس زشا بدان یا خود نگر و آنکه او نامد پنے تحقیق در کیس متر است : آدمی ہر گنه نباشد، بست او بد تر زخیرات ور ثمین ۱۲ ۱۲۷) سے پہنچے دانی کلام رحمان چیست ؟ والی که ، آن خور یافت آن مر کیست؟ شک دریب، از قلوب بردارد آن کلامش ، که نور با وارو : نور در ذات خویش و نور دید به رگ پر شک و هر گماں بیرونی ن ترجمه را بدری کا رجحان شیطانی رگ ہی ہوتی ہے، ہیں اسے بہتر سمجھتا ہوں جو ہر شر سے نجات حاصل کرلے۔اسے حسن کی کان میں جانتا ہوں کہ تو کہاں سے آیا ہے۔تو اس خدا کا نور ہے جس نہی یہ مخلوق پیدا کی ہے۔مجھے کسی اور کی خواہش نہیں رہی۔میرا محبوب تو ہی ہے، کیونکہ تیری روشنی ہمیں اسی فرماید کو پہنچنے والے سے ملی ہے۔بوء (بجائے بود) بموجب اغلاط نام مشمولہ براہین احمدیہ دہر جباره حصص طبع اول : کے ترجمہ : یہ مبارک فرقان خدا کا بھیجا ہوا ایک پاکیزہ درخت ہے نیا ترو تازہ پودا ہے، خوشبودار ہے اسا یہ دیتا ہے اور پھلوں سے لدا ہوا ہے اگر تجھے میووں کی خواہش ہے تو کسی پھلدار درخت کے نیچے آ۔اگر عقلمند ہے تو یوں کی خاطر بید کے درخت کومت ہے اگر تجھے قرآن کی خوبوں پر یقین نہیں آتا تو جو بے حس کو دیکھنے والوں کوچھو باخودتحقیق کر سکن جو شخص تحقیق کے لئے تونہ آئے اور دشمنی میں لگا ہے تو وہ انسان نہیں کہلا سکتا وہ تو گدھے سے بھی بد تر ہے۔تھے کچھ خبر ہے کہ کلام الہی کیا چیز ہے؟ اور جسے وہ سورج علاوہ چاند کون ہے اس کا وہ کام جو نوا ر سے بھرا ہوا ہے دلوں سے ہرقسم ے شک اور ہم کو دور کردیا ہے، وہ تو بھی نور ہے اور دوسرں کو بھی نور بخشتا ہے اور شبہ اور فطن کی جڑ کاٹ دیتا ہے ؟