درثمین فارسی کے محاسن — Page 78
قرآن مجید خُدا اور رسولوں کے بعد اسلامی عقاید کا تیسرا رکن قرآن مجید ہے۔اس کی تعریف میں بھی حضرت مسیح موعود کو ایک ایسا منفرد مقام حاصل ہے۔جو اولین و آخرین میں سے کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔مثنوی مولانا روم کے متعلق کہا جاتا ہے اسے مثنوی مولوی معنوی : هست قرآن در زبان پهلوی بے شک اس مثنوی میں قرآن کریم کے بعض مطالب کی تشریح ضرور کی گئی ہے۔لیکن آپ اس ضخیم ترین مثنوی کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک پڑھ جائیے۔اس میں آپ کو قرآن کریم کی ظاہری یا باطنی خویوں کا ذکر کہیں نہیں ملے گا۔سوائے حکیم سنائی کی حدیقہ الحقیقہ کے جس میں اس موضوع پر ایک الگ باب میں کچھ روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسرے بزرگوں کے فارسی کلام مں قرآن کریم کی عظمت کے متعلق صرف اشارے ملتے ہیں لیکن بالاستیعاب پوری شرح وبسط کے ساتھ اس صحیفہ آسمانی کے محاسن کسی بزرگ شاعر نے بیان نہیں کئے۔یہ سعادت صرف اور صرف حضرت مسیح موعود کو نصیب ہوئی کہ آپ نے اس عروس معانی کے چہرہ زیبا کو مختلف طریق پر مخلوق خدا کو دکھانے کی متواتر اور کامیاب کوشش کی۔یوں سمجھ لیجئے که قرآن کریم جو نور الہی ہے اس کی روشنی پھیلانے کے لئے حضرت اقدس خود بھی مینارہ نورین گئے۔اس بارہ میں حضرت اقدس کے فارسی کلام کے نمونے پیش کرنے سے پہلے حکیم سنائی کے سے : مولوی معنوی ایمیتی را ز دا حقیقت کی معنوی فارسی زبان میں قرآن مجید ہے :