درثمین فارسی کے محاسن — Page 71
41۔ایک اور نعمت دیکھیے : شان احمد را که داند بجز خدا وند کریم به آنچنان از خود جدا شده از میان افتادیم زرای نمط شد محو دلبر، کنز کمال اتحاد به پیکر اوشد سراسر، صورت رب رحیم ہوئے محبوب حقیقی سے درد زاں روئے پاک ذات حقانی صفاتش مظہر ذات قدیم گرچه نشویم گند کس ہوئے الحاد وضلال بے پویں دل احمد نے بینم ، دگر عرش عظیم منت ایزد را، کرمن بر رغم اہل روزگار به صد بلا را میخرم، از زرق آن عین النعیم از عنایات خدا و ز فصل آن دادا یه پاک :: دشمن فرعونیانم ، بهر عشق آن کلیم آن مقام و رتبت خائش که برمن شد عیاں : گفتے اگر دید مے طبعے دریں راہے سلیم در ره عشق محمدؐ این سر و جانم رود : این تمنا، این دعا، این درد کم عزم صمیم در همین طنا ۱۰۲) ١٠٢٥١٠١ بار بار محبوب کا نام لینے سے جو لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے اسکی کیفیت وہی جان سکتا ہے جو کسی کی نگاہ ناز کاکشتہ ہو ، دیکھیئے حضرت اقدس اپنے اس ذوق کی تسکین کے لئے اس طریق پر بھی رسول مقبول ے : احمد کی شان کو خداوند کریم کے بغیرکون جان سکتا ہے۔آپ خودی سے اس طرح الگ ہو گئے جس طرح آپ کے نام احمد کے ) درمیان سے میم کر گیا ہے۔آپ اپنے محبوب میں اس طرح محوہوگئے ہیں کہ کمل اتحاد کی وجہ سے آپکا سر پیار حجیم کی صورت بن گئی ہے۔آپ کے چہرہ سے محبوب حقیقی کی خوشبو پھوٹ رہی ہے۔آپ کی ذات حقانی صفات کی حامل اور ذات قدیم اللہ تعالی کی مظہر ہے۔خواہ کوئی مجھے الحاد اور گمراہی سے ہی منسوب کرے مگر مجھے احمد کے دل جیس اور کوئی عظیم الشان عرش کہیں دکھائی نہیں بتا۔خدا کا شکر ہے کریں دنیا والوں کے خلاف اس سر چشمہ نعمت کی محبت کی وجہ سے سینکڑوں بلائی خرید لیتا ہوں۔خدا کی عنایات اور اسی پاک صفات والی داری کے فضل سے میں اس دنگہ سے ہمکلام ہستی کے عشق میں فرعونی لوگوں کا دشمن ہوں۔اس کا وہ خاص مقام اور مرتبہ جومجھ پر ہی ہواہے میں اسے بیان کرتا اگرمجھے اس راہ کا کوئی سلیم فوت شخص نظر آتا محمد کے عشق کی راہ مں میران اور میری جان قربان ہوں۔میری یہی تمنا، یہی دعا اور میر سے دل میں یہی پختہ عزم ہے :