درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 51 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 51

اه امیر خسرو فرماتے ہیں : سخن آن به که بعد حمد خدا بود از نعت خواجہ دوسرے احمد آن مرسل خلاصہ کون : پردہ پوش امم بدامن عون میم احمد که در آحد فرق است به کمر ہمت از پے فرق است احمد اندر احمد که بند هست : یعنی این بنده و ان خدا وندست عاصیای را در آفتاب نشور : ظل ممدود داد از منشور نور اود آفتاب را ماید به سایر خلق و ابر بے سایہ بہر تعظیم او ارادت پاک به سایه او رہا نکرده بخاک پایه قدرش آسمان پیوند : سایه نورش آفتاب بلند روشنائی وہ چراغ یقین : نور پیشین و شجیع باز پسین نور او کز سیر صد چند است : مه شکاف و سپهر پیوند است به دہشت بہشت بحث) ے :۔کلام وہی اچھا ہے، ہمیں میں حمد الہی کے بعد دونوں جہانوں کے آقا کی نعمت ہو۔احمد وہ رسول ہے جو کائنات کا خلاصہ ہے، اور روستیگیری کے دامن سے امتوں کے پڑے ڈھکنے والا ہے۔لفظ احمد کا میم جو لفظ احد سے غائب ہے۔یہ ہمت کار در میانی لفظ یعنی) کمربند دونوں میں امتیاز کی خاطر ہے، گویا احمد احمد (خدا) کی خدمت میں کمر باندھے کھڑا ہے۔یعنی یہ بندہ اور وہ آتا ہے، آپ قیامت کی ملتی دھوپ میں گنہگاروں کے لئے خدا کے اذن سے ایک وسیع سایہ ہیں۔آپکا نور افتار کا سرمایہ ہے، آپ مخلوق کیلئے ایسا سایہ کر نیوالے بادل ہیں جس کا اپنا کوئی سایہ نہیں اللہ تعالی نے آپ کی تعظیم کی خاطر آپ کے سایہ کو زمین پرنہ پڑنے دیا۔آپ کی قدر ومنزلت آسمان تک پہنچی ہوئی ہے، یہ بند افتاب آپکے نور کا ہی پر توہے۔آپ یقین کے چرا کو روشنی بنتے ہیں، آپ ہوں لئے گوادر کھوکے لئے م ہیں کی تونی جا مانو یہ چاند زیر آسمان کا ہی ہے