درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 47 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 47

شہنشاہ کی مدح جوش مار رہی ہے اور با ہر نکلنے کے لئے بے چین ہے۔اس میں شاعرانہ تعلی کا کوئی شائبہ نہیں۔آپ کی زندگی کا محہ لمحہ، آپ کی تحریروں کی سطر سطر اور آپ کی تقریروں کا لفظ لفظ اس بات پر شاہد ہے کہ در دلم ہو شد ثنائے سرور ہے۔دوسرے مصرع د آنکه در خوبی ندارد بمیری نے کھول کر بتا دیا ہے۔کہ آگے آپ کسی جذبہ اور جوش سے فخر رسل صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح بیان کریں گے۔اور آپ نے سچ مچ اس بے مثال شخصیت کی بے مثال مدح کا حق ادا کر دیا۔یہ نعت صنعت تنسيق الصفات کا بھی ایک حسین نمونہ ہے۔اور شعر نمبرہ ، 4 میں قرآنی خطاب رحمۃ للعلمین" کی طرف تلیمی اشارہ ہے آگے بعض دوسرے بلند پایہ بزرگوں کی بیان فرمودہ نعت کے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔تا احباب خود اندازہ لگا لیں کہ اس راہ کا شہسوار در حقیقت کون ہے ؟ حکیم سنائی فرماتے ہیں اسے احمد مرسل آی چراغ جهان به رحمت عالم آشکار و نہاں آمد اندر جهان جان پر کس : جان جانها محمد آمد ولیس تا بخت دید بر سپهر جلی : آفتاب سعادت ازلی بخندید نامد اندر سراسر آفاق : پای مردی چنوی بر میثاق آن سپهرش چه بارگاه انزل به آفتابش که احمد مرسل الله ترجمہ :- احمد رسول جو سب جہان کے لئے چراغ (ہدایت) ہے۔وہ تمام عالم کے لئے ظاہر بھی اور پوشیدہ بھی رحمت ہے۔اس میدان حیات (جان) میں ہر کوئی آیا مگر محمد سب کی جان کی جان بن کر آئے میں وقت سے اس روشن آسمان پر یہ سعادت ازل کا آفتاب چکا ہے۔اس وقت سے، تمام دنیا میں (عبد یلی پسا اس جیسا ثابت قدم اور کوئی جوانمرد پیدا نہیں ہو ا۔اس کا وہ آسمان جو ازلی بار گاہ ہے۔احمد مرسل اس کا آفتاب ہے۔