درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page vi of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page vi

دور سے ہی قادیان کے قصبہ کو دیکھ کر آپ نے جان لیا تھا کہ یہ وہی جگہ ہے جو آپ کو خواب میں دکھائی گئی تھی۔اتہ پتہ پوچھ کر آپ مسجد مبارک میں جا کر بیٹھ گئے اور جو نہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے منشی خدا بخش صاحب نے ایک ہی نظر میں انہیں پہچان لیا۔ملاقات کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو قادیان آتے رہنے کی تاکید کی چنانچہ اس کے بعد آپ باقاعدگی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔جس وقت حضرت اقدس نے بیعت لینے کا اعلان کیا آپ لائکپور (فیصل آباد ) میں نئی آباد ہونے والی زمینوں پر بطور پٹواری تعینات تھے۔1889 ء کے آخر میں آپ نے قادیان جا کر حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی محترم عبد الحق رامہ صاحب کی والدہ محترمہ بھی صحابی تھیں اور انتہائی فدائی احمدی تھیں۔مکرم عبدالحق رامہ صاحب ابتدائی عمر سے ہی ہر کام محنت اور لگن سے کرتے تھے۔سکول میں ذہین طلباء میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبر لے کر پاس کیا اور سکالرشپ کے حقدار ٹھہرے۔پھر آپ نے کپورتھلہ کالج سے ایف اے اور بعد میں عربی اور فارسی میں منشی فاضل اور بی اے کرنے کے بعد ملٹری اکاؤنٹس کے محکمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔دوران ملازمت مختلف شہروں میں تعینات ہوئے اور جہاں بھی رہے جماعت کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔1924ء میں جماعت احمدیہ پشاور کے سکرٹری مال تھے اور 1940 ء میں جالندھر کی جماعت کے صدر تھے۔پاکستان بننے سے پہلے آپ کی تقرری کراچی میں ہو گئی تھی جہاں آپ نے سکرٹری مال کے عہدہ پر کام کیا۔آپ کی خدمات کا ذکر مکرم شیخ رحمت اللہ صاحب نے اپنے ایک مضمون میں اسطرح فرمایا ہے: پاکستان کے قیام سے پہلے کراچی میں چندہ دینے والے احمدیوں کی تعداد (II)