درثمین فارسی کے محاسن — Page 33
۳۱۳ دیکھئے ذات باری تعالیٰ کی صفات کا ایک چشمہ ہے جو آپ کے پاکیزہ دل سے بے اختیار ابل رہا ہے۔تنظیم کی سلاست اور روانی دیکھیئے۔الفاظ کی مناسبت اور بندش دیکھئے یحسن مطلع ملاحظہ فرمائیے آپ اس محمد کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ فرماتے ہیں کہ یہ عالم کون ومکاں زبان حال سے پکار رہا ہے وَإِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِ (بنی اسرائیل : ۴۵ ) یعنی دنیا کی ہر چیز اس کی توصیف تسبیح میں لگی ہوئی ہے۔پھر یہ پہلا شعر صنعت براعتہ الاستہراں کی بھی ایک عمدہ مثال ہے۔اس صنعت سے یہ مراد ہے کہ کلام کے شروع میں ایسے الفاظ آئیں جو بیان آئندہ کی طرف اشارہ کریں یعنی ان سے اس کلام کے مضمون کا اظہار ہو جائے۔اب دوسرے ماہرین فن کی بیان کردہ حمد الہی کے چند نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔تا ان سے مقابلہ کر کے حضرت اقدس کے کلام کی برتری کا اندازہ لگایا جاسکے۔حکم سنائی پہل بزرگ شاعر ہے جنسی افکار تصوف ، اصطلاحات عرفان اور گفتار مشائخ کو ذوقیات شعری کے قالب میں ڈھالا۔آپ کو صرف شعراء میں ہی ایک بلند مرتبہ حاصل نہیں۔بلکہ صوفیائے کرام اور صاحبان ذوق وحال میں بھی ایک بلند مقام پر فائز ہیں۔آپ کی تعریف میں آپ کے بعد آنے والے تمام اساتذہ رطب اللسان ہیں۔چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں۔ما عاشقاں بخانه خمار آمدیم : دندان لا ابالی و عیار آمدیم عطار رح بو دو سنائی دو چشم او : ما از پٹے سنائی و عطار آمدیم که حکیم سنائی کی سب سے زیادہ مشہور کتاب تحدیقہ الحقیقہ ہے جو اسی بحر میں ہے جسمیں حضر اقدس کی بیان فرمودہ مذکورہ بالاحمد الہی ہے حکیم سنائی مالک حقیقی کی حمد میں یوں نغمہ سرا ہیں : :- ہم پیر مغاں کے ہاں (ہمان بن کر آئے ہیں۔ہم لاپروا اور چالاک رند ہیں۔عطار کی مثال ایک روح کی ہے اور سنائی اس کی دو انکھیں ہیں۔ہم سنائی اور عطار کے پیچھے آنے والے یعنی چلنے والے ہیں :