درثمین فارسی کے محاسن — Page 24
کام اسلام صنائع بدائع لانے کے عمل کو تصنع سمجھتے رہے ہیں قطع نظر اس سے کہ پہلے ادباء نے اسکی مذمت کی ہے تصنع اور بناوٹ کلام کو پائیہ بلاغت سے گرادیتی ہے۔لہذا متقدمین میں سے کوئی بھی کلام کی اس قسم کی طرز کے پیچھے نہیں پڑا۔چنانچہ اساتذہ قدیم کے کلام کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ امر مخفی نہیں اور اگر کبھی ان کے کلام میں اس سم کی کوئی چیز بائی بھی جائے تو اسے عنان طبیعت کے ڈھیلا پڑ جانے پر حمل کرنا چاہیے۔تصنع کو اس میں کوئی دخل نہیں لیکن قرون وسطی میں اہل فارس اس روش پر مالی ہو گئے تھے۔اور انہوں نے قسم قسم کے صنائع بدائع ایجاد کرنے میں بہت کوششیں کیں۔یہاں تک کہ منشور یا منظوم کلام مں فنون بلاغت کا استعمال شاعری اور انشا پردازی کے فن کا کمال سمجھا جانے لگا۔جیسا کہ اس عنوان کے شروع میں عرض کیا گیا ہے۔کمال فن کے درجہ پر پہنچ کر انشا پر داند کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ضائع وغیرہ اپنے کام میں شامل کرنیکی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کی تیزی فکر توضیح وبلیغ کلام پیدا کرتی ہے۔اس میں حسب موقع ایسے فنون ضمنا یعنی خود بخود آ جاتے ہیں۔یہی حال حضرت سیح موعود کے کلام کا ہے۔بلکہ یہاں تو خاص تائید الہی بھی آپ کے شامل حال تھی۔لہذا آپ کی موید من الله طبیعت راستہ سے جو فصیح و بلیغ کلام پیدا ہوا اس میں حسب موقع و ضرورت یہ فنون خود بخود آگئے ہم یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ آپ نے اپنے کلام کو مخصر، زود فہم اور پراثر بنانے کیلئے تمام مفید فنون بلاغت سے کام لیا مگر انہیں خادم کی حیثیت ہی دی انہیں اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیا جہاں کام کو واضح کرنے یا اس میں جوش پیدا کرنے کیلئے کسی تشبیہ یا استعارہ یا صنائع بدائع کی ضرورت محسوس ہوئی اسے استعمال میں لے آئے۔یہ نہیں کہ بعض دوسرے شعراء کی طرح موقع بے موقع انہیں اپنے کلام میں شامل کریں۔اس لئے خاکسار نے ہر جگہ کی نشاندہی کی ضرورت نہیں تھی۔جہاں مناسب بے قع ہوا توان کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور اپنی توجس معانی یعنی مطلب پر مرکوز کی تاکہیں تزئین کام کے کریں ابھر کر سامانی کا اظہار نظرانداز نہ سوچا البتہ الگ عنونات علم بیان او علم بدیع وغیرہ کے تحت حضرت اقدس کے کلام سے ان فنون کی کچھ مثالیں پیش کردی گئی ہیں؟