درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 15 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 15

۱۵ عبید زاکانی تو یہاں تک کہ گیا :- اسے خواجہ تا بتوانی مکن طلب علم کا ندر طلب را تب ہر روزہ بہمانی رو مسخرگی پیشه کن و مطربی آموز تا داد خود از مهتر و بهتر بستانی مذکورہ بال بیان سے یہ نہ کھا جائے کہ اس قسم کے شاعروں کے کلام میں کوئی خوبی نہیں تھی۔خوبیاں ہیں۔بہت ہیں۔انہوں نے عمدہ عمدہ حکیمانہ اور ناصحانہ شعر بھی کہے ہیں۔لیکن زیادہ تر ان کا کلام سندی اور عشق بازی کے بیان پر تل ہوتا تھا اور عوام بھی انہیں اشعار کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں ، جواد نی جذبات کی تسکین کریں۔لہذا ایسے شاعروں کا کلام اصلاح نفس اور تہذیب اخلاق میں بہت کم محمد ہوتا ہے۔لیکن ان کے برخلاف اہل اللہ اور صوفیان با صفا کی ایک بڑی جماعت ایسی ہے جنہوں نے کسی قسم کی حرص سے بھی اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دیا اوراپنے خداداد جو ہرشعر گوئی کو مخلوق خدا کی اصلاح اور بہبودی کے لئے وقف رکھا۔انہوں نے نہ شرف اور قبولیت کو اپنا قبلہ مقصود بنایا اور نہ ذاتی منفعت کو ، دل کے کسی گوشہ میں جگہ دی۔ان کی شاعری محبت الہی ، ہمدردی مخلوق اور صدق و راستی کا بے اختیار اظہار تھا ، جو ان کے پاکیزہ دلوں میں موجزن تھی اور بیس۔انہوں نے اگر کسی دنیاوی وجاہت والی ہستی کی مدح بیان بھی کی تو اسے دائرہ حقیقت سے نہ بڑھنے دیا۔ان کے ممدوح وہی ہستیاں نہیں ، جو خلق اللہ کیلئے نفع رساں تھیں۔ایسے بزرگوں کی درخشاں مثالیں شیخ فریدالدین عطار، حکیم سنائی ، مولانا روم ، شیخ سعدی اور دوسرے کئی بزرگ ہیں جن کے ذکر خیر سے شعراء کے تذکرے بھرے پڑے ہیں۔اسے شیخ جہاں تک تجھ سے ہو سکے علم حاصل کرنے کی کوشش مت کرے۔ور نہ تو ہمیشہ روزانہ خوراک کی تلاش میں ہی سرگرداں رہے گا یعنی تجھے کبھی فارغ البالی تعیب نہیں ہوگی۔جامسخروں کا پیشہ اختیار کر اور گانا سیکھتا تو مہر بڑے چھوٹے سے اپنی داد وصول کر سکے :