درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 12 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 12

شعر یاد ہیں، میں نے کہا ہاں یاد ہیں۔فرمایا پڑھو میں نے ایک شعر سنایا۔آپ نے فرمایا۔اور پڑھو۔توئیں نے اور شعر پڑھا۔آپ نے فرمایا اور پڑھو۔حتی کہ میں نے آپ کو شو شعر سنائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شعروں کا سنانا بھی جائز ہے جن کا کہنے والا فاسق و فاجر ہو، ایک اور موقعہ پر کسی نے سوال کیا۔قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَا تَرِي فِي الشَّعْرِ فَقَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْقِهِ وَلِسَانِه - کہ یا رسول اللہ ا شعر کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ فرما یا : مومن تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور زبان سے بھی۔پس شعر کہنا اور سننا بالکل جائز اور روا ہے۔پھر ابتدائے اسلام سے لیکر آج تک بڑے بڑے صوفی اور نہ اہد بھی شعر کہتے رہے ہیں ، ہاں جو شعر ، ذائی پر اکسائیں وہ بے شک منع ہیں۔لیکن جو شعر خدا، رسول اور حسنات کی طرف کھینچیں انہیں کس طرح حرام قرار دیا جا سکتا ہے ؟ البتہ جائز شاعری میں بھی افراط تفریط سے بچنا لازم ہے۔چنانچہ ایک جگہ بعض شاعرانہ مذاق کے دوست ایک باقاعدہ انجمن مشاعرہ قائم کرنا چاہتے تھے۔اس کے متعلق حضرت سیح موعوفی سے دریافت کیا گیا، فرمایا :- یہ تضیع اوقات ہے کہ ایسی انجمنیں قائم کی جائیں اور لوگ شعر بنانے میں مستغرق رہیں۔ہاں یہ جائز ہے کہ کوئی شخص ذوق کے وقت کوئی نظم لکھے اور اتفاقی طور پر کسی مجلس میں سنائے دیا کسی اخبار میں چھپوائے۔ہم نے اپنی کتابوں میں کئی نظمیں بھی ہیں مگر اتنی عمر ہوئی کسی مشاعرہ میں شامل نہیں ہوئے۔یں ہر گز پسند نہیں کرتا۔کہ کوئی شخص شاعری میں نام پیدا کرنا چا ہے۔ہاں اگر حال کے طور پر نہ صرف قال کے طور پر اور جوش روحانی سے اور نہ خواہش نفسانی سے کبھی کوئی نظم جو خلوق کے لئے مفید ہو بھی جائے، تو کچھ مضائقہ نہیں،