درثمین فارسی کے محاسن — Page 306
j نمبر شماره نام شاعر ۱۲۶ نامعلوم ۱۲۷ " ۱۲۸ ۱۳۰ ۱۳۱ نظامی استعار عشقا بر تو مغز گردان خوردی : با شیر دلاں رستمی پا کردی ائے عشق سامنے آتو جو پہلوانوں کے مغز کھا گیا ہے اور شیروں جیسے دل والوں سے رقم جیسی بہادریاں دکھائی ہیں۔اکنوں کہ بما روئے نبرد آوردی : ہر حیلہ که داری نکنی نامردی اب جوتو نے ہمار مقابل کی ٹھانی ہے، تو اگراپنے تمام داؤ پیچ عمل میں لائے تو امر کہلائیگا۔حدیث اتش و نرخ در گفت واعظ شیخ : حکایتی ست که از روزگار هجران است بزرگ اعظ نے دوزخ کی آگ کے متعلق جوکچھ بیان کیا ہے ، وہ جدائی کے زمانہ کی ہی داستان ہے۔دالحکم در اکتوبر به شداری) مرا خواندی و خود برام آمدی نظر پخته ترکن که خام آمدی نے مجھے ماریہ کے لئے مکار اور آپکی جال میں چین گیا، اپنی سوچ کو زیادہ پختہ کرکیونکہ تو ابھی کچا ہے۔سعدی (تحفه غزه نویه ۳۵) پدر چون دور نگرش متقضی گشت : مرا این یک نصیحت داد و بگذشت میرے باپ کی زندگی کا عرصہ جب ختم ہوگیا، تو اس نے مجھے یہ ایک نصیحت کی اور چل بسا۔تحفه مغز نویه ۳۳۵) ضرب المثل بہشت آنجا کہ آزار سے نباشد : کسے را با کیسے کار سے نباشد بہشت ایسی جگہ ہے جہاں کوئی دکھ نہ ہو ، کسی کو کسی سے کچھ کام نہ ہو۔۱۳۲ سعدی کس نیاید سبخانه در ویش به که حراج بوم و باغ بده فقیر کے گھر کوئی نہیں آتا کہ، زمین اور باغ کا خراج ادا کرو۔من آنکه سر تا جور داشتم که بر فرق خلق پدر داشتم