درثمین فارسی کے محاسن — Page 3
ارادہ کیا کہ حضرت مسیح موعود کے فارسی کلام کے محاسن میں سے تھوڑا بہت جو کچھ یہ عاجز سمجھ سکا ہے، اسے احباب کے سامنے پیش کر دیا جائے، ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یر کروایا نیر کوشش میں برکت ڈال دے اور احباب اس ترنمین سے استفادہ کرنے کی طرف زیادہ متوجہ ہو جائیں۔اس عظیم کلام کے محاسن کو کما حقہ بیان کرناکسی کے بس کی بات نہیں اور خاکسار تو اپنی کم علمی اور کوتاہ فہمی کا خو معترف ہے۔اس اہم کام میں ہاتھ ڈالنے کے لئے خاکسار کا در سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ خاکسار کو اس درثمین فارسی سے والہانہ الفت ہے۔وما توفیقی الا بالله الحالي العظيم وهو الله المستعان۔ہر اچھے کلام کے محاسن کے دو پہلو ہیں۔ایک باطنی خوبیاں یعنی کلام کی راستی، عظمت اور وسعت جن کے بغیر ظاہری حسن کی کوئی وقعت نہیں۔اور دوسری ظاہری خوبیاں یعنی عبارت کی خوبصورتی اور دلکشی جس میں وہ حقائق اور اسرار پیش کئے جائیں ، جو کام کی روح ہیں۔چنانچہ شرع میں شعر اور شاعری سے متعلق چند ضروری کو الف بیان کرنے کے بعد زیادہ اہم مضامین کے متعلق اس در یمن سے اقتباسات پیش کئے گئے ہیں۔تا معلوم ہو کہ اس در ثمین کے اتنا مختصر ہونے کے باوجود اسلام کے متعلق کوئی ضروری موضوع ایسا نہیں جس کی مکمل وضاحت اس در ثمین میں نہ کی گئی ہو۔اور وہ موضوع بھی ایسے ہیں کہ انسان کو مکمل انسان اور حقیقی مسلمان بننے کے لئے ان کا مطالعہ کرنا اشد ضروری اور ناگزیر ہے۔حضرت اقدس نے اپنی دوسری کتب میں بھی اور اس درثمین میں بھی اصلاح خلق اور تجدید و احیائے دین اسلام کے لئے بھی قرآن و حدیث کے مطالب ایسے عمدہ، دلکش اور موثر طریق پر بیان کئے ہیں کہ خود بخود قاری کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اس مختصر تعارف میں نہ تو ان تمام مضامین کا ذکر کیا جاسکتا ہے جو اس درمین کے بحرز خار میں پائے جاتے ہیں۔اور نہ ہی ہر ضمون کے متعلق جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے تمام متعلقہ اقتباسات