درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 2 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 2

آپ کا کلام فصاحت و بلاغت میں لاثانی ہے۔اور اناحسین اور پر اثر اور دلگداز ہے میں کی۔کوئی انتہا نہیں۔وجہ یہ ہے کہ یہ کلام ایک موید من اللہ ہستی کا ہے جسے خود ذات باری تعالی نے عالی اعلم کا خطاب عطا کیا تذکرہ منت طبع شاه نیز الہاما بتایا گیا۔در کلام تو چیز نیست که شعر او را درای دخله نیست ( تذکره ص۶۵ طبع (۶) یعنی تمہارے کلام میں ایک ایسی چیز بھی ہے جس میں شعرا کو کوئی دخل نہیں۔اس درثمین میں ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں حضرت اقدس کی بعثت کی غرض دیعنی احیائے اسلام اور اس کی تکمیل کے ذرائع کو مکمل اور موثر طریق پر بیان کیا گیا ہے۔مثلاً بثت رسل امکان وحی و الہام ، ضرورت امام محمد دین کی آمد تبلیغ ہدایت، مخالفین اسلام کے اعتراضات کے جواب اور سب سے بڑھ کر عرفان الہی کے حصول کے طریق۔غرض احیائے اسلام کے متعلق کوئی ضروری موضوع ایسا نہیں جس پر اس درمین میں روشنی نہ ڈالی گئی ہو۔گویا یہ درین حضرت اقدس کی تعلیم کا مکمل خلاصہ ہے۔رہے۔خاکسار کو بچپن سے ہی فارسی نظم سے دلچسپی رہی ہے۔خصوصا در مین فارسی تو اکثر خاکسار کے زیر مطالعہ رہی اور جوں جوں عمر بڑھتی گئی اس کتاب سے تعلق خاطر بھی بڑھتا گیا اور اس کی عظمت اور محاسن کے دروانے کھلتے گئے۔اور خیال پیدا ہوا کہ اس بارے میں کچھ لکھنا چاہیے لیکن خاکسار کی کم علمی اور بے بضاعتی سید راہ رہی۔چونکہ ابھی تک اور کسی دوست نے توجہ نہیں فرمائی لہندا خاکسار نے بقول مولانا جائیے بیا جامی رہا کن شرمساری زصاف و درد پیش آر آنچه داری له ے اسے جالی شرم کو چھوڑ، شراب یا تلچھٹ جو کچھ تیرے پاس ہے سامنے لے آ۔