درثمین فارسی کے محاسن — Page 234
- 4 گر بر آرند شعلہ ہائے دروں و دود خیزد ز تربت مجنون له در ثمین ) مجنوں کو عاشقوں کا سردار سمجھا جاتا ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کے عاشق اس محبت کی گرمی کو جو اپنی شدت کی وجہ سے آگ کی شکل اختیار کر چکی ہے ، ظاہر ہونے دیں تو حسد اور رشک کے مارے مجنوں کے سینہ میں بھی آگ بھڑک اٹھے اور اس کا دھواں قبر سے باہر نکلنے لگے۔یہ بات بظاہر مبالغہ معلوم ہوتی ہے لیکن اصل میں حقیقت ہے۔تحصلا عشق حقیقی سے عشق مجازی کو کیا نسبت ؟ حضرت اقدس کے کلام کی خصوصیات میں یہ ذکر بھی کیا گیا تھا کہ آپ مشکل سے مشکل مسائل تصوف کو آسان فہم الفاظ میں بیان کر دیتے تھے ، وہاں صرف ایک دو مثالیں پیش کی گئی ہیں۔چند مزید مثالیں دیکھئے۔فرماتے ہیں : سے ناتواں نیست قوت اینجا : این چنین قوتے بسیار و بیا پرده نیست بر رخ دلدار : تو ز خود پرده خودی بردار دور همین سنه بر وجودش ز صنعت استدلال این مجاز است نے چواصل وصال یک دم از خود دور شو بهر خدا و تا مگر نوشی تو کاسات لقا دور ثمین سلام ور یمین ۱۳۳) اے ترجمہ :۔اگر اپنے اندرونی شعلوں کو ظاہر کر دیں ، تو مجنوں کی قبر سے بھی دھواں نکلنے لگے۔کے ترجمہ :۔اس جگہ کی طاقت عاجزی ہے، یہاں آنا ہو تو ایسی طاقت میکر آنا۔دلدار کے منہ پر کوئی نقاب نہیں، تو اپنے اگو پر سے انانیت کا پردہ اٹھا ہے۔خدا کے وجود پر صرف اسکی صنعتوں سے استدلال کرنا مجاز ہے نہ کہ سچا وصل۔کے ترجمہ :۔خدا کے لئے اپنے نفس سے بجلی کنارہ کشی کر لے تاکہ تو وصل کے جام نوش کرے۔