درثمین فارسی کے محاسن — Page 1
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمُ پیش لفظ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ریح موعود و مہدی معہود علیہ السلام) کا منظوم فارسی کلام حمد الہی نعت رسول مقبو صلى اله علیه وسلم، فضائل قرآن مجید، صداقت دین اسلام، ترغیب حسنات اور وعظ و نصیحت کا ایک ایسا بے بہا خزانہ ہے جس کی نظیر اور کہیں نہیں مل سکتی۔یہ کلام آپ کی کتب اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اخبارات میں جگہ جگہ ملتا ہے اور یکجائی طور پر بھی الگ کتابی صورت میں در ثمین فارسی کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اس در شین کا اردو ترجمہ تو ہمارے سلسلہ کے ایک بلند پایہ عالم اور صوفی منش بزرگ حضرت ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب مرحوم نے کر دیا تھا، جسے محترم شیخ محمد المعیل صاحب پانی پتی نے قیام پاکستان کے بعد شائع کیا۔اس سے احباب جماعت کو حضرت اقدس کے فارسی کلام کو سمجھنے میں ایک بڑی حد تک آسانی ہوگئی لیکن اس بے نظیر کلام کے ظاہری اور باطنی محاسن پر تا حال کسی صاحب ذوق نے قلم نہیں اٹھایا۔حالانکہ کی فصیح و بلیغ کلام کو پوری طرح مجھے اور اور اس سے حظ اٹھانے کے لئے فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بھی اس کے محاسن سے واقفیت پیدا کرنا ضروری ہے۔علم بلاغت کے قواعد اور تفاصیل کے مرتب کرنے کی ایک بڑی غرض یہی ہے کہ اُن کے ذریعہ سے اساتذہ فن کے کلام کو کما حقہ سمجھ کر اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکے۔اور یہ امر حضرت اقدس کے کلام کے متعلق تو اور بھی ضروری ہے کیونکہ