درثمین فارسی کے محاسن — Page 216
۲۱۹ سپاس آن خداوند یکتائے را: بمہر و مہ عالم آرائے را در زمین ) بسیار سے طلبگار صدق وصواب : بخوان از سیر خوض و فکر این کتاب حاجت نو سے بود هر چشم را : این چنین افتاد قانو کی خدا کے شوی عاشق رخ یارے پہ تا نه بر دل رخش کند کالے سے ور ثمین صن) ور ثمین صدا) در ثمین (۳۲۴) وغیرہ لمبی نظمیں ہیں۔لیکن پانی کی طرح بہتی چلی جاتی ہیں۔مظاہر قدرت کا گہرا مطالعہ اور ان کا بیان شعرا کا طرہ امتیاز ہے اور مغربی ممالک میں تو اسے اور بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس بارہ میں حضرت اقدس کے کلام سے ایک اقتباس مثہ ہذا پر ملاحظہ فرمائیے۔مزید دو ایک اقتباس نیچے درج ہیں : هر چه از وصف خاکی و خاکست : ذاتِ بیچوں اوازاں پاکست بند بر پائے ہر وجود نہاد : خود ز هر قید و بند است آزادی لے ترجمہ : اس بےمش خدا کا شکر ہے جنسی دنیاکو چاند اور سورج سے آراستہ کیا ہے۔اسے سچائی اور راستی کو ڈھونڈنے والے، ذرا غور اور فکر سے اس کتاب کو پڑھ۔ہر آنکھ کو بیرتی سروشتی کی ضرورت ہے۔خدا کا قانون ایسا ہی واقع ہوا ہے، توکیو نکر کسی معشوق کے رخ کا عاشق ہوسکتا ہے ، جب تک اس کا رخ تیرے دل پر کچھ اثر نہ کرے۔ے ترجمہ : زمین اور زمینی مخلوق کی جو بھی صفات ہیں۔اس کی بے مثل ذات ان سے پاک ہے ، ہر وجود پر اس نے کچھ پابندیاں لگا رکھی ہیں، اور خود ہر قید اور پابندی سے آزاد ہے۔