درثمین فارسی کے محاسن — Page 208
اسے خُدا اسے چارہ آزاید ما نے اسے علاج گریہ ہائے زراید ما اسے تو مریم بخش جان ریش ما اسے تو دلدار دل غم کیش ماه ور ثمین ) موازنہ یہ ہے کہ دونوں مصرعوں کے آخری الفاظ بلحاظ وزن کے برابر ہوں لیکن باعتبار حرف آخر کے مختلف ہوں۔جیسے سے عنایت ہائے اور ا چون شمارم و کر تکلف اوست برای از شما اتے دور ثمین (۲۳) اکتفا یہ ہے کہ عبارت ایسی ہو جس کا کچھ حصہ محذوف ہو، اور دلالت کلام کے باعث اس محذوف کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہو۔اس کی غرض اختصار ہوتی ہے ہو فن شاعری کا ایک بڑا ما بہ الامتیاز ہے۔جیسے ہے آتش عشق از دم می مچھ بیتے ہے جید : یک طرف میدان نماز گرد و جوانی من قے مے طرف دو تین منش) دوسرے مصرع میں از من (یعنی مجھ سے ) اور گردید (یعنی ہٹ جاؤ) کے الفاظ محذوف ہیں:۔دید را کن جستجو اے نا تمام ورنه در کار خودی بس سر دو خانه در تمین اے ترجمہ : اسے خُدا اسے ہمارے دکھوں کی دوا ، اسے ہماری گریہ و زاری کے علاج۔اسے ہماری زخمی جان پر مریم رکھنے والے ، اسے ہمارے غم زدہ دل کی خواری کرنے والے۔سے ترجمہ میں اسکی مہربانیوں کو کیون گرگن سکوں ، کیونکہ اس کی نوازشات حد شمار سے باہر ہیں ے ترجمہ میرے سانس سے اسکی عشق کی آگ بجلی کی طرح نکلتی ہے، اسے خام طبع ساتھیو ہی اردگرد سےایک فرد ہی جائیں۔کے ترجمہ : اے ناقص انسان تو مشاہد حق کی جستجو کر ، اس کے بغیر تو معرفت میں خام ہی رہے گا۔