درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 207 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 207

۲۰۷ مے دید فرعونیاں را ہر زمان : چون ید بیضائے موسی قصد نشاں آل نبی در تیم این کوران نزار با هست یک شہوت پرست کیس شعار شر مست آیدے سنگ ناچیز و پست : مے نہی نام یلاں شہوت پرست ہے دور ثمین ن حمد باری تعالی سے نعت رسول کی طرف گریز فرماتے ہیں : جہاں جملہ یک صنعت آباد اوست : خنک نیک بختی که در یاد اوست رسول خدا پر تو از نور اوست : همه خیر ما زیر مقدور است ہماں سرور و ستید و نور جہاں : محمد کز و بست نقش جهائی در ثمین سا) خوب غور فرمائیے کہ گریز کی ان مثالوں میں پہلے مضمون کا تسلسل بھی نہیں ٹوٹتا اور نیا مضمون بھی شروع ہو جاتا ہے۔یہی تخلص کا کمال ہے۔ستاف : مخاطب کو متوجہ کرنے کے لئے حرف ندا کے ساتھ آواز کو لمبا کرنا جیسے : اے ) ترجمہ :۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، فرعونی صفت لوگوں کو ہر وقت موسیٰ کے یہ بھیا جیسے سینکڑوں نشان دکھاتا ہے۔ایسا نبی ان ذلیل اندھوں کے نزدیک ایک شہوت پرست اور کینہ ور شخص ہے۔اسے حقیر اور ذلیل کہتے تمہیں پہلوانوں کا نام شہوت پرست رکھنے سے شرم آنی چاہیئے۔کے ترجمہ : تمام جہان اس کی کاریگری کا کارخانہ ہے، خوش قسمت ہے وہ جو اس کی یاد میں ہے۔خدا کا رسول اسی کے نور کا عکس ہے۔ہماری سب بھلائیاں اسی کی پیروی سے وابستہ ہیں۔وہی سردار ہے ، آتا ہے ، روح کی روشنی ہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اس دنیا کی صورت بنی۔