درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 206 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 206

۲۰۶ قسم بھی بعض دفعہ کلام میں مجیب نطف پیدا کرتی ہے۔جیسے : بگیسوئے رسول اللہ کہ ہستم : نشاید روئے تابان محمد ور ثمین ) محبت تو دوائے ہزار بیماری است به بروئے تو کر رہائی دریں گرفتاری است که در همین شک) حسن بخلص جسے گریز بھی کہتے ہیں پہلے صرف تشبیب کے بعد عمدہ طریق سے مدح کی طرف پلٹنے کو کہتے تھے۔اب قدر سے عام ہو گیا ہے۔یعنی ایک مضمون کی طرف متوجہ ہونا۔۱ حضرت اقدس نعت نبی سے دوسرے انبیاء کے ذکر کی طرف پلٹتے ہیں۔فرمایا سے است او در روضه تدرس محلال و از خیال مادحاں بالا تر ہے اسے خدا بر وئے سلام ما رساں : ہم برا خوانش زہر پیغمبرے ہر رسولے آفتاب صدق بود + ہر رسولے بود مہر انورے د در ثمین خدا ۲۱۰۰) -۲- اسی طرح آپ نعت رسول سے ایک اعتراض کے رد کی طرف رجوع فرماتے ہیں:۔لے ترجمہ: رسول اللہ کی زلفوں کی قسم میں مصل اللہ علیہ تک کے روشن چہرے پر فدا ہوں۔تیری محبت بے شمار بیماریوں کی دوا ہے، تیرے ہی منہ کی قسم کہ اسی گرفتاری میں اصل آزادی ہے۔کے ترجمہ : وہ پاکیزگی اور جلال کے گلستان میں دستک) ہے اور مدح کرنے والوں کے خیال سے بہت بالا ہے۔اے خُدا اُسے ہمارا اسلام پہنچانے، نیز اس کے بھائیوں یعنی دوسرے تمام پیغمبروں کو بھی۔ہر رسول سچائی کا سورج تھا ، ہر رسول نہایت روشن آفتاب تھا۔