درثمین فارسی کے محاسن — Page 197
196 صنائع لفظی تجنیس سے جناس بھی کہتے ہیں یعنی کلام میں ایسے دو لفظوں کا آنا جو تلفظ میں مشابہ لیکن معانی میں متاثر ہوں۔اس کی بھی بہت سی قسمیں ہیں مگر حضرت اقدس کے کلام میں اس کے ستعمال کے متعلق مثالیں پیش کرنے میں چند ایک کا ذکر کرنا کافی ہوگا۔۱- تجنیس نام دونوں لفظوں کے حروف ، عدد، نوع ، ہیئت اور ترتیب میں متفق ہوں۔جیسے ہے عشقش ، تار و پود دل من در دی شد است : مهرش شد است در دره دیں میرا نوارم تبالیست از بانغ تدکس و کمال : ہمدال اور بھوگل ہائے آل 14 در زمین ) ( در تمین جنت) چه فرق است در روز و شب جز که یار : فتد خاک بر فرق این روزگاره در ثمین (۳۷۵) لے ترجمہ : اس کا عشق میرے دل کے رگ وریشہ میں داخل ہوگیا ہے، اور کی محبت دین کی راہیں میرے لئے چمکتا ہوا سورج بن گئی ہے۔وہ پاکیزگی اور کمال کے باغ کا درخت ہے ، اور اس کی سب آل و اولاد شرخ پھولوں کی مانند ہے۔دوست کے سوا دن اور رات میں فرق ہی کیا ہے ، اس زمانہ کے سر پر خاک پڑے۔