درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 187 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 187

JAL شیخ سعدی کا ایک اقتباس منا ہذا پر دیکھئے جس میں آٹھویں شعر پر جاکر مفہوم مکمل ہوا ہے۔تجاہل عارف یعنی کسی معلوم بات سے اپنے آپ کو ناواقف اور لاعلم گردانتے ہیں کسی خاص نکتہ کے پیدا کرنے کے لئے جس کلام زیادہ بلیغ ہو جائے۔جیسے سے من ندانم این چه ایمان است و دین دم زدن در جنب رب العالمین تو خزاں بہر خود پسندیدی به من ندانم چه در هنرهای دیدی (در تمین منت ) ور ثمین ۳۵) مرا قبال وکذاب و ترانز کافرا فهمند نمے دانم چرا از نورحق نفرت شود پیدا؟ دور ثمین ) ان تینوں شعروں میں مخالفین کی غلط کاری پر تعجب میں مبالغہ ہے تشابہ الاطراف یعنی کلام ایسی شے پر ختم کریں جو ابتدا سے مشابہت رکھتی ہو جیسے سے سخن نام دریافت زاں نامہ : زہے پختگی ہائے آں خاصہ ہے خامہ (قلم) کون کلام جو کھا ہوا ہو اس سے گہرا تعلق ہے۔دور ثمین ۳۱۵ لے، میں نہیں جانتا کہ یہ کیسا ایمان اور دین ہے کہ انسان خدا کے مقابلہ میں کوئی دعوے کرے۔تو نے اپنے لئے خزاں کو پسند کر لیا میں نہیں سمجھ سکتا۔کہ تو نے خزاں میں کیا دیکھا۔مجھے دقبال ، کذاب اور کافروں سے بدتر سمجھتے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ انہیں خدا کے نور سے کیوں اتنی نفرت ہوگئی ؟ سے اس خط سے کلام نے نام پایا ، اس قلم کی پختگیوں کے کیا کہتے !