درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 171 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 171

141 سرکشیده بناز و کبر و ریا و از ترین نهاده بیرون پا د در ثمین ص سر سے کل انسان مراد ہے۔(جز و برائے کل) سے تو بے زبانان از فصیح شدند : زشت رویان از و صبیح شدند بے زبانوں سے گونگے مراد ہیں۔(اکہ ) سے ور تمین حن) پنا ہم آں تو انا نیست بر آن زنبیل نا توانا نم مترسان صدا دور ثمین ) پناہ سے مراد جائے پناہ ہے۔(مظروف بجائے ظرف) سے قدیر این ره بپرسی از اموات : اے بسا گو رہا پر از حسرات کے در ثمین عث) گو رہا سے مراد اہل قبور ہیں۔(ظرف بجائے مظروف) سے از خودی در شد و خدا را یافت به گم شد و دست رہنما را یافتی دورترین ها) سے ترجمہ : فخر اور تکبر اور ریا سے اکڑ رہا ہے ، اور دینداری کی حد سے باہر نکل گیا ہے کے ترجمہ : اس کی وجہ سے گونگے فصیح بن گئے اور بد شکل آدمی خوبصورت ہو گئے۔کے ترجمہ : میری پناہ برآن وہ طاقتور رہتی ہے ، اس لئے مجھے بے طاقتوں کے بخل سے مت ڈراؤ۔کے ترجمہ اس رستے کی قدر مردوں سے پوچھو، بہت سی قبری حسرتونی سے بھری ہوئی ہیں۔شے ترجمہ : تو نے خودی سے نکل کر خدا کو پالیا، اور گم ہو کر رہنما کی امداد حاصل کرلی۔