درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 141 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 141

۱۴۱ ب - دیر اور بہادر آدمی کی اوٹی جذبہ کے تابع او مطیع نہیں ہو سکتے۔وہ تو ہر چیز پر حاکم ہوتے ہیں : شیر حق پر ہیبت از رب جلیل به دشمنان پیشش پو روباه ذلیل این چنینی شیرے بود شہوت پرست؟ ؟ ہوش گئی اسے ویسے ناچیز و پست چیستی اے کو رک فطرت تباہ ؟ : طعنہ بر خوباں بدیں روئے سیاہ شهوت شان از سیر آزادی است : نے اسیر آن چو تو اس قوم مست خودنگر کی آن یک زندانی است و آن دگر داروغه سلطانی است گرچه در یکجاست هر دو را قرار : ایک فرقے ہست دوری آشکار کاری پاکاں پر بلا کر دن قیاس کار ناپاکان بود اسے بد حواس در ثمین ص۱۳) ج - خدا تعالے کے کامل محبت یاد الہی کے ساتھ دوسری ہر قسم کی ذمہ داریوں کے نبھانے پر بھی قادر ہوتے ہیں۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اعلیٰ مقاصد کی خاطر زیادہ شادیاں کیں تو انہیں بطریق احسن نبھایا بھی ہے ے ترجمہ وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے سچائی کا پر ہیبت شیر ہو اور شن اس کے سامنے ذلیل لومڑی کی طرح ہوں۔کیا ایسا شیر شہوت پرست ہوا کرتا ہے ؟ اسے ذلیل و حقیر لومڑی ہوش میں آ۔اسے ذلیل ید خطرات اندھے تو کیا چیز ہے ؟ کہ اس کا لے منہ سے حسینوں پر طعنہ زنی کرتا ہے )۔ان (عاشقان اپنی ) کی شہوت آزادی کی بنا پر ہے، تیری طرح وہ مست جماعت شہوت کی قیدی نہیں۔تو آپ غور کر کہ ایک شخص تو قیدی ہے اور دوسرا شخص شاہی داروغہ ہے، اگرچہ دونوں کی رہائش ایک ہی جگر ہے لیکن فرق ہے اور ان میں دوری ظاہر ہے۔پاکوں کے معاملات کا بدوں پر قیاس کرنا ، اسے بیوقوف انسان ناپاک لوگوں کا کام ہے ؛