درثمین فارسی کے محاسن — Page 86
AY متروک شدست درس فرقان به زان روز، هجوم این بلا هاست نیچرونه با میل خویش بد بود دیں گم شد و نور عقل با کاست بر قطره نگوں شدند یکبار : گروه تافته، زمان طرف که در یاست بر جنت و حشر و نشر خندند : کیس قصه بعید از خرد هاست بچوں ذکر فرشتگان بیاید : گویند خلاف عقل داناست اسے سید سرگروه این قوم ! به هشدار کہ پائے تو نہ برجاست پیرانه سر، این چه در سر افتاد + کرو، تو به کن ، این نه راه تقوای سها ترسم که ، بدین قیاس ، یکروز : گوئی کہ، جندا خیالِ بیجاست اسے خواجہ ، بروکر منکیر انسان : در کار خندا نه نوع سود است آخر ، زقیاس ها چه خیزد نه بنشیں، کہ نہ جائے شور و غوناست کچھ اے بندہ ، بصیرت از خدا خواه به اسرار خندا نه خوان بینما است که رور ثمین ۱۹۷۶۱۹۶۵ ے ترجمہ : جس دن سے قرآن کا پڑھنا پڑھانا موقوف ہوا ہے اس دین سے بلاؤ کی یہ ہجوم ہے۔نیچ اپنی اس کے لحاظ سے تو بری تہ تھی لیکن جب دین گم ہو گیا تو قل کی روشنی بھی کم ہوگئی، وہ یک لخت ایک قطرہ پر ٹوٹ پڑے اور میں طرف دریا تھا او ر سے منہ موڑ لیا۔وہ جنت اور حشر نشر پر ہنستے ہی یہ قصہ عقل سے بعید ہے۔جب فرشتوں کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں۔یہ بات عقل دانا کے خلاف ہے۔اسے ستید اسے اس قوم کے سردار باخبردار کہ تیر قدم صحیح مقام پر نہیں تھے بڑھاپے میں کیا سو بھی جا تو توبہ کر یہ تقوی کا طریق نہیں۔میں ڈرتا ہوں کہ ایسے ہی قیاسات کی بنا پر کسی دن یہ بھی کہہ دیا که خدا ایک وہم ہے۔صاحب ! ان باتوں کو چھوڑو، کیونکہ خدائی کاموں میں خیالی گھوڑے دوڑانا اک قسم کا پاگل پن ہے۔آخر قیاسات سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔آرام سے بیٹھو۔یہ جگہ غل غپاڑہ مچانے کی نہیں۔خدا کے بندے خدا سے بصیرت مانگ۔اللہ تعالی کے اسرار خوان یعنی عام شنگر نہیں۔(کہ جو شخص چاہیے لوٹ لے جائے) :