دُرّ مکنون — Page 202
نظر اردوبردنی پر اگر دل میں تمہارے سے شر نہین ہے تو پر کیون بین بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ظن بدر کہتا ہے حادت بدی سے خوردہ رکہتا ہر ارادت نمان بد شیاطین کا ہے ہمیشہ نہ اہل عفت دین کا ہے ہمیشہ تمہا ر و دل مین شیطان کو ہے بہتے اسی سے میں تمہارے سے کام کچھے وہی کرتا ہے جن بد بلا ر سیب کہ جو ر کہتا ہے پر وہ مین ہی نیب وہ فاسق ہے کہ جس لئے رہ گنوایا نظر بازی کو ایک پیشہ بنایا نگر عاشق کو ہرگز بد نہ کہیتو دبان بدخلفیوں سے بچکے بہتو اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقین سمجھو کہ ہے تریاک دامن گر مشکل یہی ہے درمیان میں کہ گل بے خار کم این بوستانین تمہین یہ بھی سناؤں اس بیانین که عاشق کیس کو کہتے ہیں جہانمین وہ عاشق ہو کہ حبکو حسب تقدیر محبت کے کمان سے آ لگا تیر ہ شہرت سے نہ ہو کچھ نفس کا جوش ہوا الفت کے پیمانو نسے مد موش نگی سینے میں اسکے آگ غم کی نہیں اس کو خبر کچھ پیچ و تم کی خاتمہ کرتا این جمله سرقتی است بر مخزان گیری و رز مرا داشت در چه از این کالای علیم نگیر چون که خودا فراز سکیم لا يؤخذ المشرعة و ذهب الكرام شور که ما در مورد تمام شد قوام میں اہم 19