احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 48
48 تھوڑا سا آنا موجود تھا وہی چندہ میں دے دیا اور خود رات بھو کے سور ہے۔نام ونمود سے استغناء کا یہ عالم کہ ایک کروڑ روپیہ خاموشی سے ایک احمدی نے خلیفہ وقت کو دیا اور عرض کیا کہ کسی سے اس کا ذکر تک نہ ہو، جس نیک جماعتی کام میں چاہیں استعمال میں لائیں۔مالدار اس جذبہ سے لاکھوں اور کروڑوں دیتے ہیں کہ یہ سب خدا کا دیا ہوا تھا اس کی راہ میں دینے کی توفیق ملی تو یہ بھی خدا کا احسان ہے۔غریب بھی اس میدان میں کسی طرح پیچھے رہنے والے نہیں۔بچوں کی ضروریات کو پس پشت ڈال کر فاقہ کر کے، پیسہ پیسہ جوڑ کر چندہ دینے کی مثالوں سے تاریخ احمدیت بھری پڑی ہے۔مرد عورتوں سے سبقت کی کوشش میں رہتے ہیں اور عورتیں مردوں کو مات دینے کے انتظار میں۔مسجدوں کی تعمیر کا موقع آنے پر جس طرح مرد اپنی جبیں خالی کرتے ہیں اسی طرح عورتیں اپنے طلائی زیورات اس طرح پھینکتی نظر آتی ہیں جیسے ان قیمتی زیورات کی کوڑی برابر قیمت نہ ہو۔مسجد فضل لندن ہو یا مسجد بیت الفتوح، مسجد بیت الاسلام ہو یا مسجد بیت الرحمن۔دنیا میں کسی مسجد کی تعمیر کا موقع ہو، عورتوں کی طرف سے زیورات کی موسلا دھار بارش ہونے لگتی ہے۔قادیان کے ایک درویش کا عاشقانہ انداز قربانی ایسا ہے کہ روح پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔شمس الدین صاحب درویش جسمانی طور پر معذور تھے سارا وقت ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں پڑے رہتے۔نظام وصیت ۱۹۰۵ میں شروع ہوا۔یہ 1919 میں اس میں شامل ہوئے لیکن اس اپاہج اور معذور لیکن دل کے غنی اور فدا کار کا نمونہ دیکھئے کہ آپ نے ۱۹۰۱ سے چندہ وصیت دینا شروع کیا۔اور نہ صرف ساری زندگی ادا کیا بلکہ آئندہ سالوں کا چندہ بھی دیتے رہے اور ۱۹۹۰ تک کا چندہ وصیت ادا کر دیا جبکہ ان کی وفات ۱۹۵۰ میں ہوگئی۔گویا وہ تصویری زبان