احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 61
61 قبولیت دعا کی پاک تجلیات کا ظہور کس کس رنگ میں ہوا؟ یہ ایک ایسا بحر ذخار ہے جس کا احاطہ کبھی بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کا تذکرہ کبھی مکمل ہوسکتا ہے۔یہ ایک جاری وساری سلسلہ ہے جو ہر آن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ قبولیت دعا کے واقعات سے اس طرح بھری پڑی ہے جس طرح آسمان ستاروں سے بھرا ہوتا ہے۔کس کس بات کا ذکر کیا جائے۔چند ایک مثالیں مختصر أعرض کرتا ہوں جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کوکس طرح قبولیت دعا کے زندہ اور زندگی بخش اعجازی معجزات سے نوازا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں منشی عطاء محمد صاحب پٹواری کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ان کی تین بیویاں تھیں لیکن اولاد سے محروم تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر مرزا صاحب کی دعا سے مجھے جس بیوی سے میں چاہوں اولا دل جائے تو میں احمدی ہو جاؤں گا۔مسیح پاک علیہ السلام نے دعا کی۔اس کی برکت سے ان کو حسب خواہش اولا دلی اور ساتھ ہی احمدیت کی دولت بھی مل گئی ! (بحوالہ سیرت المہدی مطبوعه قادیان ۱۹۳۵ حصہ اوّل صفحه ۲۳۹ تا ۲۴۱) کپورتھلہ میں احمدیہ مسجد پر غیروں نے قبضہ کر لیا اور حج اس بات پر تلا ہوا تھا کہ فیصلہ احمدیوں کے خلاف ہوگا۔جماعت کے دوستوں کی گھبراہٹ دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔اگر میں چا ہوں تو یہ مسجد تمہیں مل کر رہے گی۔آپ نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات میں مسجد احمدیوں کو دلا دی۔پہلا حج اچانک فوت ہو گیا اور نئے جج نے فیصلہ احمدیوں کے حق میں کر دیا۔( بحواله سیرت المہدی مطبوعه قادیان ۱۹۳۵ حصہ اوّل صفحه ۶۴)