دُختِ کرام ؓ — Page 29
وخت کرام 29 29 بیگم صاحبہ سے مجھے بہت محبت تھی۔میں ان کو اپنی والدہ کی جگہ سمجھتا تھا۔اس طرح ایک طرح وہ میری والدہ تھیں۔حضور کی جدائی کا آپ کو بے حد رنج تھا۔آپ کو بہت یاد کرتی تھیں اور اکثر جانے والوں کے ہاتھ کہلا کر بھیجتی تھیں کہ میرا جنازہ غائب نہیں بلکہ حاضر پڑھاتا ہے لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا آپ کی بیماری لمبی ہوگئی۔کمزوری بڑھتی گئی اور آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ آخری نشانی ہم سب سے جدا ہوکر اپنے حقیقی مولا سے جاملیں۔بہن بھائیوں کی محبت حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ چونکہ سب بہن بھائیوں میں چھوٹی تھیں۔اس لئے سب کو بہت زیادہ پیاری تھیں۔بڑے بھائی حضرت مصلح موعود آپ سے باپ کی طرح شفقت اور محبت فرماتے۔آپ کی شادی کے معاملات بھی سب آپ نے طے فرمائے۔آپ کی پریشانیوں میں آپ کی بہت دلداری فرماتے اور حوصلہ دیتے ایک دفعہ آپ کو پریشان دیکھ کر فرمایا ” حفیظ کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہو؟ آپ بھائی کی ہمدردی پا کر رو پڑیں حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا حفیظ گھبراؤ نہ بعض اوقات ریس میں پیچھے رہ جانے والا گھوڑ اسب سے