دُختِ کرام ؓ

by Other Authors

Page 19 of 41

دُختِ کرام ؓ — Page 19

وخت کرام 19 آپ محسوس کرتی تھیں کہ اس سے بچوں میں فضول خرچی پیدا ہوتی ہے۔جب بھی کسی ضرورت کے لئے ہے دیتیں تو ایک ایک پیسہ کا حساب لیتیں۔یہ اس لئے تا کہ بچوں میں لین دین میں دیانت داری پیدا ہو۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو سالگرہ پر کیک منگوا کر دعوت کرتی ہیں اور تحائف دیئے جاتے ہیں۔آپ نے ایسا کبھی نہیں کیا بلکہ اس دن کوئی نیک نصیحت کان میں ڈالتیں۔ایک دفعہ آپ اپنی زمینوں پر سندھ میں تھیں آپ کی بیٹی فوزیہ کی چودھویں سالگرہ آئی آپ نے اپنے ہاتھ سے ان کو ایک پیارا سا خط لکھا۔جو آج تک انہوں نے سنبھالا ہوا ہے اس میں آپ نے بڑی قیمتی نصائح کیں۔سب سے پہلے تو یہ لکھا کہ چودھواں سال ایک لڑکی کے لئے خاص سال ہوتا ہے اس لئے بعض ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے نصیحت کی کہ دعاؤں کو اپنا وطیرہ بنا لینا چاہیے۔اور اپنے نیک نصیب ہونے کی دعا کرنا چاہیے۔سوائے خدا کے کسی انسان سے کوئی امید نہ رکھنی چاہیے۔اور مخلوق خدا سے ہمدردی کو اپنا شعار بنا لینا چاہیے اور کسی انسان کو زبان یا ہاتھ سے دکھ نہ پہنچانا چاہیے اس سے اچھا تحفہ کیا کوئی ماں اپنے بچے کو دے سکتی ہے؟ اتنی پیاری صیحتیں اگر ہم مان لیں تو خدا بھی خوش اور بندے بھی خوش اللہ تعالی ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق