دُختِ کرام — Page 55
۴۳ حالت پر غور کرتا تھا اور جب تک کسی لڑکے پر اطمینان نہ ہو جرات نہ کر سکتا تھا اب جہاں تک میرا خیال ہے عبداللہ خان کو اس قابل پاتا ہوں میں بلا کسی لمبی چوڑی تحمید کے میں بادب متقی ہوں کہ حضور اپنی فرزندی میں لے کر حضور بعد مشورہ حضرت اماں جان عبداللہ خان میرے لڑکے کا رشتہ عزیزہ امتہ الحفیظ کے ساتھ منظور فرمائیں اور بعد استخارہ مستونہ جواب سے مشکور فرمائیں۔را تم محمد علی خان اپنی اہم ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے حضرت نواب صاحب نے دوبارہ اپنے بیٹے کو تحریر فرمایا :- یا اپنی مسلمکم اللہ تعالے السلام علیکم ! تم کو میں نے تمام امور کھو کر کھو دیتے تھے اور تم نے اس امر کو پسند کیا تھا کہ تمہارا رشتہ اللہ الحفیظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لڑکی سے کیا جاتے۔اور تم کو میں نے استخارہ کے لیے بھی کہا تھا آج قریباً ہفتہ ہو گیا ہے میں نے تمہاری پسند کے اظہار پر درخواست کردی ہے اور آج چالیس دفعہ استخارہ ختم ہو گیا ہے۔اس مزید احتیاط کے لیے تم کو لکھتا ہوں کہ پس لیے مجھ کو تم پر حسن بھتی ہے اس کی بنا۔پر میں نے یہ تعلق چاہا ہے پس تم سمجھ لو کہ یہ میری اور تمہاری بڑی ذمہ داری کا کام ہے اگر تم اپنے میں پورا حوصلہ رکھتے ہو کہ جس طرح میں نے لکھا ہے کہ تم نبھا سکو گے تو اس جگہ قدم رکھنا چاہیئے ورنہ دین ودنیا کا خسارہ ہے۔۔۔میرے نقش قدم پر چلتا ہو گا، بہت سی