دُختِ کرام — Page 427
۴۱۵ ان کا پہننا اوڑھنا۔ان کی نماز سب کچھ آج تک یاد ہے دھیمے دھیمے لہجہ میں گفتگو کا اندازہ ایک ایک لفظ پیارا لگتا تھا۔ایک واقعہ جسے بعد میں ہونے والے ایک واقعہ نے انمٹ یادگار بنا دیا یہ ہے کہ حضرت بیگم صاحبہ کی چھوٹی بیٹی فوزیہ ہیں تو بھی چنگی لگتی تھیں مگر ایک دفعہ ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر بلوایا گیا اور بیگم صاحبہ نے پر دے کی رعایت کے ساتھ اُسے اپنی بچی کے علاج کے لیے کہا۔جو کیفیت بیگم صاحبہ نے بیان کی کچھ اس طرح تھی کہ بچی کا رنگ زرد ہوتا جا رہا ہے بہت کم کھاتی ہے کچھ سست بھی ہے لڑکیوں کی طرح کھل کر پہننا کھیلنا اُسے پسند نہیں ہے۔خاموش سی رہتی ہے اس کے بڑھنے کی عمر ہے کوئی دوا دیں۔ہم جو ایک ایک لفظ غور سے سُنا کرتے تھے ماں کی شفقت کو دکھی کر حیران رہ گئے ہمیں تو یہ بھی خبر نہ تھی کہ مائیں ایسی باتیں بھی نوٹ کرتی ہیں۔ماں کا اپنی بچی کے بارہ میں اتنی گہرائی سے سوچنے کا اندازہ ذہن میں کئی کئی روپ سے آتا۔وہ ماں جسے بچی کی چھوٹی سے چھوٹی بات کی فکر تھی کچھ عرصہ کے بعد یہ صدمہ بھی دیکھتی ہے کہ بچی کم عمری میں بیوہ ہو گئی مگر اس سانچے سے بچی پر جو گذر گئی اس پر مولا کا اختیار تھا۔جہاں راضی برضا ر ہنے کا اجر ہے اب یہی پیکر صبر و رضا کا مجسمہ بن جاتا ہے میرے ذہن میں ماں کی مامتا کی وہ تشویش بھری آواز سنائی دیتی ہے۔بچی کھاتی کہ ہے بچی زرد ہو رہی ہے اور اب بچی بیوہ ہو گئی ہے اور ماں بچی کا دکھ صبر سے برداشت