دُختِ کرام

by Other Authors

Page 404 of 497

دُختِ کرام — Page 404

۳۹۲ ذرا ذراسی بات کا فکر کرتی رہتیں آپ کی پوتی امتہ الاعلی ماہم کی شادی تھی۔میں نے مبارک باد دی فرما یا دعا کرو مجھے بڑی فکر ہے بارات نے دور سے آنا ہے خدا تعالیٰ شادی بخیر و عافیت کر دے اور یہ خوشی دائمی ہو۔ایک دفعہ کا ذکر ہے گرمیاں تھیں میں آپ سے ملنے کے لیے حاضر ہوئی آپ نے خادمہ کو فرمایا قیوم کے لیے شربت بنا کر لاؤ اسے پیاس لگی ہوگی۔پھر فرمایا ، قیوم دیکھو ابھی با مچھلی ( محترمہ بی بی احتمالی اسط صاحبہ جن کو پیار سے سب باچھی کہتے ہیں ) آتی اور تھوڑی دیر باتیں کر کے جلدی سے چلی گئی تو اچانک مجھے خیال آیا۔کہ باچھی اتنی جلدی کیوں چلی گئی۔تو میں نے اس کو فون کر کے پوچھا کہ باچھی تم ابھی آئی اور فوراً چلی گئی کی بات تھی۔اس نے کہا پھوپھی جان مجھے پیاس لگی تھی۔تو میں نے باتھی سے کہا کہ کیا یہ تمہارا گھر نہ تھا۔تم نے کیوں نہیں بتایا کہ تمہیں پیاس لگی ہے پھر فرمایا دیکھو باچھی نے کیا کیا ، پانی پینے گھر چلی گئی مشکل تو یہ ہے کہ مجھے پیاس نہیں لگتی۔جس کی وجہ سے مجھے یاد نہیں رہتا کہ کسی کو پانی کا پوچھوں۔اتنے میں خادمہ شربت سے آتی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے دیا۔بی بی کے جانے کا آپ کو اس قدر افسوس تھا کہ آپ بار بار ذکر کرتی تھیں۔پھر آپ نے خادمہ کو تاکید کی کہ تم خود ہر آنے والے کو پانی پوچھ لیا کرو۔مجھے تو یاد نہیں رہتا۔اسی طرح محترمہ بی بی اللہ الرشید صاحبہ کی بیٹی کی شادی تھی آپ کو بہت فکر لگا ہوا تھا مجھے فرمایا دیکھو رشید کی بیٹی کی شادی ہے پتہ نہیں وہ کیسے سارے کام کرے گی۔تم بھی جا کر پوچھ لینا اور اس کی مدد کر دیا۔