دُختِ کرام — Page 373
۳۶۱ سلوک فرمایا کہ ان کے بچوں کو بھی اپنے نواسوں نواسیوں کی طرح سمجھا میری ایک تم سن لڑکی عذرا بیگیم (جو محرم غفور النساء بیگم صاحبہ جنہوں نے میاں عباس احمد صاحب کو دودھ پلایا تھا کی بیٹی ہیں ) کی بھی انہوں نے خود شادی کی۔یہ بھی زینب کی طرح بہت چھوٹی عمر میں حضرت بیگم صاحبہ کے گھر آگئیں۔بہن زینب نے مجھے بتایا کہ اس کی شادی پر حضرت بیگم صاحبہ نے بہت روپیہ خرچ کیا۔اللہ نے اسے اولاد سے نوازا تو بچے کے لیے پیچی کیس بھر کر اس طرح سامان بھیجوایا جس طرح ماں اپنی بچی کی اولاد کے لیے ایسے مواقع پر بھجواتی ہیں۔زہرہ سے آپ کی محبت کا یہ حال تھا کہ جس دن دختِ کرام کا وصال ہوا بار بار آپ دریافت فرماتیں زہرہ نہیں آتی زہرہ نہیں آتی اور جب وہ بچی آئی تو اس سے دریافت فرمایا بچے کو ساتھ نہیں لاتی پھر زنیب کو فرمایا اسے کھانا کھلاؤ۔زینب نے بتایا کہ گھر میں آپ اس طرح ہماری تربیت کرتیں جس طرح ماں بیٹیوں کی کرتی ہے ہمارا لباس سادہ اور صاف ہوتا اور آپ فرمائیں۔میں تمہاری حفاظت کرتی ہوں لڑکوں سے ملنے نہ دیتیں۔زینب نے بتایا کہ جب میری شادی کی تو ہا تھوں میں سونے کے کنگن انگوٹھی کانوں کا زیور اور گلے کا زیور دیا۔میری ایک بچھی مسرت کی شادی پر قریباً سارا خرچ آپ نے کیا۔دوسری بچی کی شادی پر بھی بہت اعانت فرمائی۔جب گونگے بچے کی شادی ہوئی