دُختِ کرام — Page 374
۳۶۲ تو آپ کی طبیعت اچھی نہ تھی۔دولہا دلس کو بلا کر بہت بڑی رقم سلامی کے طور پر دی۔زینب نے بیان کیا کہ میں بیمار ہوتی تو ڈاکٹر کو بھیجو انہیں پھر فون کمر کے ڈاکٹر اور لیڈی ڈاکٹر سے پوچھتیں کہ کیا حال ہے اس کا۔میں ملنے جاتی تو آپ کا کھانا ٹرالی میں لگ کر آتا۔تو اصرار فرماتیں کہ یہ مرغی کا بے مرچ شوربہ لے لو۔وہ چیزے اور تم کھاتی نہیں اسی لیے تمہاری یہ حالت ہے۔جب ان کے شوہر شہید ہوئے تو حضرت بیگم صاحبہ پاکستان آ چکی تھیں زینب پاکستان آئیں تو حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب مرحوم زینب کے بچوں کو اپنے بچوں کے ساتھ سیر کے لیے لے جاتے کہیں باہر جاتے تو اس کے بچوں کے لیے ٹافیاں وغیرہ لاتے۔حضرت بیگم صاحبہ فرماتیں چھٹیوں میں بچوں کو لے کر یہاں آجایا کرو۔زینب کی صحت کا اتنا خیال رکھتیں کہ بیماری کے ایام میں جب تک آپ کی صحت اچھی تھی روزانہ موٹر میں آجاتیں۔زینب یعنی پہلی دخت کرام سے ملنے جاتیں تو فرماتیں فریح سے فلاں چیزے کو فلاں چیز کھاؤ۔تم کھاتی نہیں اس لیے تمہاری صحت اچھی نہیں۔زینب نے بتایا کہ شادی کے بعد میں نے ریشمی لباس پہنا۔دوسروں کو اپنے دیکھا تو ایک روز میں نے عرض کیا۔بیگم صاحبہ آپ نے ہیں بہت سادہ رکھا فرمایا۔تمہاری عزت کا مجھے خیال تھا۔زیادہ بناؤ سنگھار