دُختِ کرام

by Other Authors

Page 312 of 497

دُختِ کرام — Page 312

۳۰۰۔۔کہ ایک دفعہ ابا نے کہیں جاتے ہوئے ٹائی مانگی۔میرے بھائیوں نے کبھی یہ چیزیں استعمال نہ کی تھیں اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہ آیا ، لیکن میں نے اظہار نہ ہونے دیا۔الماری کھولی۔کپڑوں کا جائزہ لیا صرف ٹاتی ایسی چیز نکلی جس کا مجھے پتہ نہ تھا۔وہی اُٹھا کرے آئی۔اگر اس وقت (یا سے اپنی لاعلمی کا اظہار کر بھی دیتیں تو بھی آتا جیسے انسان کو کوئی فرق نہ پڑتا، لیکن امی کی خود داری اور غیرت نے گوارا نہ کیا کہ وہ کسی بات میں کم بھی جائیں۔اسی کم عمری میں سال سال کے فرق سے اوپر تلے تین بچے پیدا ہوئے۔ان سب کو بہترین طریقہ سے سنبھالا۔ابھی ابا کا کوئی ذاتی کاروبار نہ تھا۔اتبا حضور کی طرف سے کچھ جیب خرچ ملتا تھا۔اسی میں انتہائی خوش اسلوبی سے گذارا کر نہیں کبھی ناجائز بوجھ نہیں ڈالا۔لیکن ساتھ ساتھ ابا کو ذاتی کام کے لیے بھی ابھارتیں اکٹھے رہنے میں کسی تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں، لیکن یہ وقت بھی صبر اور حوصلہ سے گزارا۔سناتی تھیں ایک دفعہ بعض حالات کی وجہ سے بڑی پریشانی تھی۔بڑے بھائی رحضرت خلیفہ اسیح الثانی ، مجھ سے بالکل باپ والی شفقت فرماتے تھے۔مجھے الگ لے گئے اور کہا " حفیظ امجھے تاؤ تمہیں کیا تکلیف ہے۔امی کہتی ہیں کہ میں یہ سُن کر رو پڑی، لیکن بولی کچھ نہیں بڑے بھائی نے بڑے پیار سے کہا : حفیظ گھیراؤ نہ بعض وقت ریں میں پیچھے رہنے والا گھوڑا سب سے آگے نکل جاتا ہے۔خدا کرے ماموں جان کے یہ الفاظ امی کی نسل در نسل پورے ہوں اور ہم سب بچوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کا بہترین وارث بننے کی