دُختِ کرام

by Other Authors

Page 289 of 497

دُختِ کرام — Page 289

واپس نہ کرے۔کہتی تھیں اس طرح لوگوں کو دوسرے کا حق مارنے کی عادت پڑ جاتی ہے حقیقی مجبوری کی اور بات ہے جھوٹ بولنے سے بھی بے حد متنفر تھیں ہمیشہ صاف اور کھری بات کرنے کو پسند کرتی تھیں۔باوجود اپنی اتنی کمزوری اور بیماری کے قرآن مجید کی تلاوت روزانہ ضرور کرتی تھیں۔سر پر پٹی بندھی ہوتی ہے مگر قرآن شریف کی تلاوت بے حد التزام کے ساتھ کرتی تھیں۔کمزوری کی وجہ سے نماز اب لمبی نہیں پڑھ سکتی تھیں۔لیٹے لیٹے ہی دعا کرتی رہتی تھیں جب بھی کوئی بہن دُعا کے لیے آتی تھیں اور اپنی تکلیف کا اظھا کرتی تھیں بے چین ہو جاتی تھیں اور بعد میں کہتی تھیں مجھے سارا وقت اس کا خیال آتا رہا اور میں اس کے لیے دُعا کرتی رہی۔اب اپنی گزوری کی وجہ سے خطوط کا جواب نہیں دے سکتی تھیں مگر پڑھوا کر سنتی تھیں اور پھر ان کے لیے دُعا کرتی رہتی تھیں۔میری امی کا ایک خاص وصف خدا تعالیٰ پر توکل تھا۔ایک دفعہ امی کو شہد کی ضرورت پڑی اتفاق سے اس وقت شہد موجود نہیں تھا میں نے کہا امی ابھی جاکر سیدی حضرت بھائی جان رحضرت مرزا ناصر احمد صاحب ) سے لے آتی ہوں۔ان کے پاس بہت سا شہر آیا ہے مجھے کہہ رہے تھے کہ تم جاتے ہوئے منبر کے لیے لے جانا۔امی نے فوراً کیا نہیں ، میں نے کسی سے نہیں مانگتا۔جب اللہ تعالیٰ خود میری تمام ضرورت ہیں پوری کرتا ہے تو میں کسی کو کیوں کہوں۔اور پھر میں نے دیکھا اسی دن یا دوسرے دن ہی کسی نے امی کو بہت ہی اچھا خالص شہد تحفتہ بھجوادیا