دُختِ کرام

by Other Authors

Page 288 of 497

دُختِ کرام — Page 288

اقدس کا نام تک لینے سے منع کر دیا۔مگر اس ننھے اور معصوم دل نے اپنے عظیم اور بیحد پیار کرنے والے باپ کی محبت کو دل میں یوں چھپایا کہ سب مجھے بچتی ہے شاید بھول گئی۔مگر میری امی جو کہ غیر معمولی ذہین اور حساس تھیں۔ان کے دل سے وہ یاد ساری عمر نہ نکل سکی اور اس کے نتیجہ میں اقی نے ساری عمر اپنے آپ کو دبایا۔باوجود اس کے کہ حضرت اماں جان نے میری امی کو بے حد پیار دیا۔ہمیشہ ان کا بے حد خیال رکھا اور پھر امی کو سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے اپنے عظیم بھائیوں کا بھی بے حد پیار ملا۔اور شادی کے بعد میرے ابا جان نے امی سے انتہائی محبت اور عزت کا سلوک کیا۔ہمیشہ ان کو خدا تعالیٰ کا ایک بڑا انعام اور اپنے لیے باعث برکت سمجھا اس سب کے باوجود بھی میری امی اس معصوم عمر کے حادثہ کو کبھی فراموش نہ کر سکیں اور شاید اسی لیے میری امی میں بہت ہی جھجک تھی وہ کبھی کھل کر اپنی صلاحیتیوں کا اظہار نہ کر سکیں۔وہ تو ایک ایسا خاموش سمندر تھیں جو ساری عمر خاموشی سے بہتا رہا اور جتنا اس کی گہرائی میں جاؤ تو پتہ چلتا تھا۔اس میں کتنے قیمتی خزانے ہیں۔میری امی بہت تقویٰ شعار اور خدا سے بے حد پیار کرنے والی بے حد صابر و شاکر کبھی کسی کا بُرا نہ چاہتی تھیں ہر ایک سے بے حد محبت کرنے والی۔اور جس سے ایک دفعہ تعلق ہو جائے اس کو ہمیشہ نبھاتی تھیں میری امی کو بعض حسد اور دیس سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔معاملہ کی بہت صاف تھیں اور اس بات سے بہت متنفر تھیں کہ کوئی قرض لے کر۔۔