دُختِ کرام — Page 268
roy پاس محفوظ ہیں۔حضرت والد صاحب کی بیماری کے بارہ میں جس کا حملہ فروری تہ کو رتن باغ لاہور میں ہوا۔یہ عاجز حضرت مولانا کو دعا کے لیے خط لکھتا رہتا تھا۔حضرت مولوی صاحب کے اس زمانہ کے خطوط بھی میرے پاس محفوظ ہیں جن میں حضرت والد صاحب کے بارہ میں مندر اور مبشر خوا میں درج ہیں جن میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ شفایابی غالباً پانچ سال میں ہوگی۔ان خوابوں میں آپ کی یہ خواب بھی تھی کہ اس بیماری کی علت فائی یہ ہے کہ حضرت والد صاحب اور ہماری والدہ صاحبہ کو نوروں کے پانی سے غسل دیا جائے۔انہی دنوں حضرت مولوی صاحب نے ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ اللہ تعالی ذات غفور و و دو در رستوح و قدوس بذات خود ر تن باغ لاہور میں (جہاں ان دنوں حضرت خلیفہ المسیح الثانی - حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت والد صاحب اور حضرت والدہ صاحبہ رہائش پذیر تھے تشریف لاتے ہیں۔رتن باغ میں خدائے و دود و غفور نے حضرت والدہ صاحبہ کو دیکھا اور بہت محبت کے ساتھ سر پر ہاتھ پھیرا۔اس کے بعد حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نظر آتے اور ان کے سر پر بھی محبت دیار کے ساتھ ہاتھ پھیرا۔بعد ازاں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نظر آتے تو اللہ تعالیٰ ستوح و قدوس غفور و ودود نے فرمایا آپ تو ہمارے ہیں اور ہم آپ کے۔حضرت مولوی صاحب نے یہ کشف مجھے خود سُنایا۔رتن باغ میں اس تجلی کے بعد خدائے غفور و ورود نے اپنی اس تھیلی کو کراچی میں ظاہر کیا اور