دُختِ کرام — Page 235
۲۲۳ تیار ہوئیں اور جائے نماز اور کرنے کا پوچھا مجھے یاد ہے کہ آپ نے ہماری اس بات کو بہت پسند کیا اور فرمایا کہ اس قدر چھوٹی عمر میں اس قدر نماز کی با قاعدگی ؟ پھوپھی جان خوش ہوئیں اور انہوں نے وضاحت کی کہ اس بچی (خاکسارہ) نے صرف چار یا سوا چار سال کی عمر میں قرآن کریم ختم کیا ہے جبکہ فارسٹ والوں کو کوئی ٹیچر بھی میسر نہیں ہوتا یہ بھابی جان (میری والدہ) اور بڑے بھائی جان کی خاص توجہ کا ثبوت ہے اور پھر یہ بھی بتایا کہ دونوں بہنوں کا یہ حال ہے کہ جو سنی بھائی اور بھائی جان (میرے اماں ابا ) تتجد کے لیے اُٹھتے یہ دونوں خواہ باہر برفباری ہورہی ہو خواہ کس قدر موسم خراب ہو اسی وقت وضو کر کے ان کے کمرہ میں پہنچ کر ان کے ساتھ شامل ہو جاتی ہیں با جی جان کو یہ باتیں اس قدر پسند آئیں کہ جب کبھی ملنے کا اتفاق ہوتا آپ خاص طور پر ہم دونوں کو پیار کرتیں اور ارد گرد بیٹھے ہوئے افراد سے اس کا بڑے حسین پیرائے میں ذکر کرتیں۔نہ صرف یہی باجی جان کو ہماری سادگی بھی اس قدر پسند آئی کہ ہمیشہ تعریفی کلمات میں ہماری مثال دیا کرتیں۔جب دارالانوار میں ہماری کوٹھی بنی تو اتفاق سے ان دنوں باجی جان دار المحمد میں رہائش پذیر تھیں۔ہم اتفاقاً چند دن کے لیے آتے ہوتے تھے میں نے بڑی منت سماجت اور ضد کر کے اپنی اماں مرحومہ کو کہا کہ جتنے دن بھی ہم بیاں ہیں مجھے سکول جانے کی اجازت دیں اماں کا موقف یہ تھا کہ چند دنوں کے لیے سکول کا داخلہ بے معنی ہے اس لیے اس خیال کو چھوڑ