دُختِ کرام

by Other Authors

Page 146 of 497

دُختِ کرام — Page 146

۱۳۴ ہوتا ہے اس چیٹنگ کو مصور اور اس کی بیوی نے تین ماہ میں مکمل کیا تھا۔یہاں سے واپسی پر ہم نے پی پیلیس (PEACE PALACE) دیکھا اور پھر کچھ وقت وہاں کے شاپنگ سنٹر نہ دیکھنے میں گزارا۔آپا قدسیہ بھائی موجی جیبی اور ہم اکٹھے تھے اس لیے بہت پر لطف وقت گذرا شام کو ہم لوگ ساحل کی سیر کے لیے اور ایک مشہور مقام ماڈو روڈام" دیکھنے نکلے۔حافظ صاحب نے کار کا انتظام کیا ہوا تھا۔اس لیے سہولت رہی ایک نوجوان نو مسلم اس کو چلا رہا تھا۔اور راستہ میں میں ہالینڈ کے متعلق بھی بتاتا تھا۔امی کا دل چاہتا تھا کہ جس مقام سے گذریں اس کے متعلق معلومات بھی ہوں اس لیے تمام راستہ مختلف مقامات پوچھتے سنتے رہے ساحل کی سیر بھی بہت پر لطف رہی اور پھر ہم MODURODAM پہنچے۔ماڈورور ماں باپ کا اکلوتا لڑکا تھا جوانی میں فوت ہو گیا۔تو اس کے ماں باپ نے اس کی یاد میں ایک ہسپتال بنوایا جس کی آمد سے " ماڈو روڈام بنوایا گیا۔ماڈورو ڈام میں ہالینڈ کی مشہور عمارات اور جنگیں چھوٹے سائز میں بنوائی گئی ہیں رات کے اندھیرے میں یہ ایک چھوٹا سا شہر لگتا تھا۔عمارتوں میں بجلی سے روشنی کا انتظام تھا۔جس پر کاریں ہیں اور ٹرینیں چل رہی ہیں جو خود نخود شرقی اور چل پڑتی ہیں مشن ہاؤس واپس آکر حافظ صاحب نے ہمیں دوبارہ بیت کے ہاں میں بلوا لیا تاکہ بیت اور مشن ہاؤس کی سرگرمیوں کی سلائیڈ نہ دکھاتیں نہیں 19 اگست کو ہم بیگ سے رخصت ہوتے ان دو دنوں میں ہم