دُختِ کرام

by Other Authors

Page 75 of 497

دُختِ کرام — Page 75

یہاں یہ ہوا کہ اس شادی میں شمولیت کے لیے باہر سے حضرت نواب صاحب نے جن اصحاب کو بلایا وہ صرف میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کے تعلق کی وجہ سے یہ خاکسار تھا۔۔۔۔۔۔۔حضرت نواب صاحب کا یہ خیال عقیدہ کی جد تک پہنچا ہوا تھا کہ رخصتانہ کے وقت دلہا کو اپنی دین کو لینے کے لیے اس کے گھر نہیں جانا چاہیئے۔بلکہ دلہن کی رشتہ دار عورتوں کو خود دین کو دلما کے گھر پہنچانا چاہیئے۔مجھے معلوم نہیں کہ حضرت نواب صاحب کے اس خیال کی بنیاد کیا تھی۔ممکن ہے انہوں نے کسی حدیث یا اسلامی تاریخ کی کسی کتاب میں پڑھا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صاحبزادی کا رخصتانہ اسی طرح ہوا تھا۔ہر حال وہ اس خیال پر شدت سے قائم تھے۔اس لیے جب حضرت صاحبزادی الله الحفیظ بیگم صاحبہ کے رخصانہ کا وقت ہوا تو حضرت اماں جان نے غالباً حضرت نواب صاحب کے اس خیال کو جانتے ہوتے کہ کسی برات وغیرہ کا آنا تو خارج از بحث ہے۔میاں عبداللہ خان صاحب کو کہلا بھیجا کہ آپ اکیلے ہی ہمارے ہاں آجائیں۔یہ بات مجھے خود میاں عبداللہ خان صاحب نے بتائی کہ جب وہ حضرت اماں جان کے ارشاد کی تعمیل میں اکیلے کو بھٹی دار السلام سے دار المسیح کی طرف گئے تو پہلے اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے گھر میں داخل ہوں حضرت نواب صاحب کو میاں عبداللہ خان صاحب کے اس طرح اکیلے جانے کا علم ہو گیا اور انہوں نے اپنے ایک خادم میاں جیوا کو میاں صاحب کے پیچھے بھیج کر انہیں حضرت مسیح موعود کے گھر داخل ہونے سے روک دیا اور جیسے میاں صاحب مغفور