دُختِ کرام

by Other Authors

Page 53 of 497

دُختِ کرام — Page 53

۴۱ اس سے میں خوش ہوں۔مگر ساتھ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ میری خوشی اور ناراضگی حالات پر مبنی ہے جس طرح اب میں تم سے خوش ہوں اگر تم خدا نخواستہ اب حالت بدل دو تو پھر ناراض ہونگا۔۔۔۔۔اب پھر یں رشتہ کے متعلق لکھتا ہوں اس سلسلہ میں ایک مشکل بھی ہے اگر تم اس مشکل کو برداشت کر سکتے ہو تو رشتہ کی طرف توجہ کرو ورنہ پھر بہتر ہے کہ تم ہاں نہ کرنا۔دوسرے یہ کہ رشتے کے بعد حضرت مسیح موعود اور اہل خانہ مسیح موعود علیہ السلام سے ہمسری یا ہم کفو کا خیال اکثر لوگ کر بیٹھتے ہیں اور اس سے ابتلا - آتا ہے۔قابل غور امر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ رشتہ کیوں چاہا جاتا ہے صاف بات ہے کہ جب ان کے کپڑے تک بابرکت میں تو ان کے جگر کے ٹکڑے کیوں نہ با برکت ہونگے۔۔۔۔۔تعلق رشتہ کو موجب برکت و فخر سمجھنا چاہیئے اور اپنے آپ کو وہی کہ من آنم کہ من دانم سمجھنا چاہیئے میں نے رشتہ کیا اور زینب کو حضرت صاحب کے ہاں دیا ان دونوں رشتوں میں برابری کا خیال بالکل دل سے نکال دیا میں طرح میں حضرت اقدس کی عزت کرتا تھا۔وہی عزت و ادب بعد رشتہ رہا اور ہے اور جس طرح میں حضرت اماں جان۔۔۔۔۔کا ادب اور عزت کرتا تھا اسی طرح اب مجھ کو عزت اور ادب ہے اور اس سے بڑھ کر۔اسی طرح اس پاک وجود کئے گڑوں کی میں عزت کرتا تھا ویسی اب ہے میں تمہاری والدہ کی ناز برداری اس لیے نہیں کرتا کہ وہ میری بیوی ہیں گو مجھ کو شریعت نے سکھلایا ہے مگر میں جب میاں محمود احمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب